Friday, 04 May, 2007, 06:53 GMT 11:53 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو وردی میں منتخب کرنے میں مدد دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تاہم انہیں واپسی کا محفوظ راستہ دینے پر بات ہوسکتی ہے۔
لاہور پریس کلب میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے لیے تمام راستے بند ہوچکے ہیں اور ان کو واپسی کا محفوظ راستہ دینا چاہیے۔ ’جنرل مشرف کی واپسی فوج کے مفاد میں ہوگی اور جنرل مشرف کو محفوظ راستہ نہ دینے کی صورت میں پانچ سو آدمی مر سکتے ہیں جس کا میں حامی نہیں ہوں‘۔
غلام مصطفی کھر نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو چھ ماہ کے لیے بیرون ملک جانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے کوئی ڈیل نہیں کی۔ ’میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ بے نظیر بھٹو کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے جنرل مشرف مضبوط ہوں۔ اب آمریت کے خلاف آخری فیصلہ کن جنگ ہورہی ہے۔ پیپلز پارٹی کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس سے اس کی تاریخ شرمسار ہو‘۔
سابق گورنر پنجاب نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کو ملک میں استحکام کے لیے کم از کم دس برس مل کر چلنے کا معاہدہ کرلینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ مئی کو چیف جسٹس پاکستان کا لاہور میں پرتپاک استقبال ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجابی ثابت کریں گے کہ وہ آمریت کے ساتھ نہیں اوریہ استقبال آمریت کے خلاف ریفرنڈم ہوگا۔