Friday, 04 May, 2007, 17:35 GMT 22:35 PST
امداد علی سومرو
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے۔ پہلی بار عدلیہ چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بہادری کی وجہ سے آزاد ہونے کی طرف جا رہی ہے۔ اس لیے پوری قوم اس تحریک میں شامل ہوجائے۔ اس کی کامیابی کے بعد عوام حقیقی معنیٰ میں آزاد ہوں گے اور غریبوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کا ادارہ کسی طاقتور کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس بذات خود ایک ادارہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ نے غریب کے مقابلے میں ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو سکی، اس کی وجہ سے ہی پاکستان میں کبھی جمہوریت نہیں پنپ سکی۔
انہوں نے آصف زرداری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری ہماری عدلیہ کی کمزوریوں کی ہی وجہ سے جیل سے وزیر اعظم ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس سے سیدھے جیل جاتے رہے ہیں۔ کیوں کے یہاں عدالتوں نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے۔
عمران خان کے مطابق پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں بلکہ جنگل کا قانون ہے۔یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام ہے۔
پہلی بار جب چیف جسٹس ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں تو ہمیں روشنی کی کرن نظر آئی ہے۔ اور جو تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے وہ انصاف کی تحریک ہے۔ عوام اس میں شامل ہوکر اس تحریک کو کامیاب کریں تو عدلیہ آزاد ہو جائے گی۔ پھر کسی غریب کو کوئی وڈیرہ تھانے میں بند کروا کر تشدد نہیں کروائے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو غیر فعال بنائے جانے کے خلاف شروع ہونے والی تحریک تحریکِ پاکستان کے بعد سب سے بڑی عوامی تحریک ہے۔ یہ تحریک عدلیہ کی آزادی کی تحریک ہے۔ اور پاکستان کے تمام لوگ تب ہی آزاد ہوں گے جب یہاں پر عدلیہ آزاد ہوگی۔
پنجاب میں پولیس کارروائی |
ان کے مطابق پاکستان میں مزدور پر جو ظلم ہو رہا ہے اور اس کی جو حق تلفیاں ہو رہی ہیں اس کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوھدری کا استقبال روکنے کے لیے پنجاب بھر سے ان کی جماعت کے بیسیوں کارکن گرفتار کئے گئے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں گجرات اسٹائل کی سیاست نہیں چلی گی۔ ان کے مطابق پرویز الہیٰ سن لو اب تم سے کوئی نہیں ڈرتا۔ تم جتنے لوگ اندر کروائو گے یہ تحریک اتنی مضبوط ہوگی۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس کارکنوں کے گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر رہی ہے۔ ان کی عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی جا رہی ہے۔ انہوں پولیس حکام کو بھی خبردار کیا کہ ان کا بھی احتساب کیا جائے گا جو حکمرانوں کے غیر قانونی حکم بجا آوری کے لیے قانون کے بکھیے ادھیڑ رہے ہیں۔
عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ آج لاہور میں چیف جسٹس کا بھرپور استقبال کریں گے۔ اور اگر حکومت نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو امن و اماں کی صورتحال کی ذمہ دار حکومت خود ہوگی۔