Thursday, 03 May, 2007, 17:13 GMT 22:13 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عملی طور پر معطل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو ایک درخواست دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے فل کورٹ بینچ کی تشکیل کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے جسے رد کر دیا جانا چاہیے۔
صدر مشرف کے وکلاء نے بدھ کو قائم مقام چیف جسٹس سے ایک درخواست کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ جسٹس افتخار چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے۔
اس کے جواب میں جسٹس افتخار نے جمعرات کو اپنے وکیل ایم ایس خٹک کے ذریعے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا ہے کہ انہوں نے چوبیس اپریل کو سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی آئینی پٹیشن کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے۔
جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ جب قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے اس آئینی درخواست کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا تو فریق ثانی نے ’یو ٹرن‘ لیتے ہوئے اب پانچ رکنی بینچ پر اعتراضات شروع کر دیئے ہیں۔
جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ صدر مشرف کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پانچ رکنی بینچ میں شامل بعض ججوں کی شمولیت سمجھ سے بالا تر ہے اور ایک جج کے بارے میں تو یہاں تک کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ایڈہاک جج ہیں۔
جسٹس افتخار کے مطابق جسٹس حامد علی مزرا ایڈہاک جج ضرور ہیں لیکن سپریم کورٹ میں وہ جسٹس عبد الحمید ڈوگر سے بھی سینئر ہیں اور آئین میں سپریم کورٹ کے مستقل اور ایڈہاک جج میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا صدر مشرف کی طرف سے درخواست بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کا مقصد ان کی آئینی درخواست کی سماعت کے راستے میں روڑے اٹکانا ہے۔
جسٹس افتخار نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ صدر مشرف کی فل بینچ کے لیے درخواست کو مسترد کر دیا جائے اور پانچ ججوں پر مشتمل بینچ کو ہی سات مئی سے آئینی درخواست کی سماعت شروع کرنے دی جائے۔