Wednesday, 02 May, 2007, 19:57 GMT 00:57 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ہوجائےگا کیونکہ دونوں طرف سے اس میں دلچسپی لی جا رہی ہے۔
یہ بات انہوں نے نو روزہ دورے کے بعد انڈیا سے واپسی پر نامہ نگاروں سےگفتگو کرتے ہوئے کہی۔
سردار عبدالقیوم نے دہلی میں ہونے والی ’ہارٹ ٹو ہارٹ‘ کانفرنس میں شرکت کی جس میں دونوں طرف کے کشمیری رہنما شامل تھے تاہم انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی سرینگر سے کسی اہم کشیمری لیڈر نے شرکت نہیں کی البتہ جموں کی لیڈر شپ موجود تھی۔
سردار قیوم نےکشمیر کے حل کے سلسلے میں ہندوستان کے جوابی رویہ کو بہت اچھا قرار دیا اور ساتھ ہی وضاحت کی کہ ان کا مطلب حکام کے رویے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں طرف اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ امن ہونا چاہیے اور ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں انہوں نے امن کےعمل کو کامیاب بنانے کی بات کی ہے۔
کشمیری رہنما نے اپنے دورہ ہندوستان کو دونوں ملکوں کے تعلقات اور مسئلہ کشمیر کی حل کی جانب پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ ’یہ کوئی کم پیش رفت نہیں ہے کہ مجھے دشمن نمبر ون کہا جاتا تھا اور اب ساٹھ برس بعد مجھے ہندوستان جانے کی اجازت دی گئی‘۔
سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر پر جو تجاویز دی ہیں ان پر بات چل رہی ہے اور ’ہمارا موقف ہے کہ امن کے لیے ہونے والے مذاکرات میں جو بھی کمی ہے اسے پورا کر کے اس عمل کو تیز کیا جانا چاہیے|‘۔
سردار قیوم نے کہا کہ ہندوستان میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی تحریک میں شامل اور قید افراد کی محفوظ واپسی کے عمل کی حمایت کریں گے تو انہوں نے اس کی حمایت کی۔
سردار قیوم نے کہا کہ کشمیر میں ’جنرل ایمنسٹی‘ ہونی چاہیے تاکہ تحریک کے لوگ رہا ہوکر اپنے گھروں کو چلے جائیں۔