Tuesday, 01 May, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کوصدر یا آرمی چیف کے عہدوں میں سے کسی ایک عہدے سے لازماً دستربردار ہو جانا چاہیے۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کے لیے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کا اصرار آئینی جمہوریت کی طرف پاکستان کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا۔
پاکستانی آئین کے مطابق ہی جب تک صدر مشرف، آرمی چیف رہتے ہیں ان کا صدارتی انتخاب غیر آئینی ہو گا۔ 27 اپریل کو دیے جانے والے ایک اخباری انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں نومبر میں عام انتخِابات سے قبل، اکتوبر میں صدر کا انتخاب کریں گی اور ان اسمبلیوں میں ایک ایسی جماعت کو اکثریت حاصل ہے جو فوجی پشت پناہی کی بنا پر چل رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کا صدر منتخب ہونا اور چیف آف آرمی کے عہدے کا تسلسل برقرار رکھنا ممکن ہو جائے گا۔ نان اسمبلیوں کی مدت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔
مشرف جمہوری تقاضوں سے روگردانی |
انیس سو ننانوے میں حکومت کا تختہ الٹ کر برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے مشرف مسلسل آرمی چیف اور صدر کے عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جب کے پاکستان کا آئین آرمی چیف کو سیاسی عہدہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دو ہزار تین میں پرویز مشرف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر 2004 کے بعد صرف کسی ایک عہدے پر فائز رہیں گے لیکن ایک ہی سال بعد انہوں نے سرِ عام اس وعدے سے انحراف کا اعلان کر دیا۔
بطور صدر مزید طاقتور بننے کے لیے پرویز مشرف نے صدارتی اختیارات میں اضافے کے لیے آئین میں ایسی من مانی ترامیم کیں جن سے منتخب نمائندوں کے اختیارات کم ہوئے اور فوج کو حکومت میں ایک باقاعدہ کردار حاصل ہو گیا۔ مشرف کے دور میں قانون کے برخلاف فوج کی من مانیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ جن میں پانانوں سے ماورا ہلاکتیں، تشدد، من مانی گرفتاریاں اور سیاسی حریفوں پر مظالم شامل ہیں۔
اسی سال نو مارچ کو پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو اپنے دفتر بلایا اور ’عہدے کے ناجائز استعمال‘ کا مبینہ الزام لگا کر معطل کر دیا۔ اس اقدام نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ردِ عمل پیدا کیا اور وکلاء کے علاوہ حقوقِ انسانی کے اداروں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی۔
مشرف: چیف جسٹس کی معطلی |
ایڈم کا کہنا ہے کہ ’مشرف نے صدارت کو ملک کا سب سے طاقتور عہدہ بنا دیا ہے اور اب یہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستانی ووٹر اس بات کا فیصلہ کریں کہ اس عہدے پر فوج اور مشرف کے برخلاف کسے رہنا چاہیے‘۔