http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 01 May, 2007, 16:57 GMT 21:57 PST

بمباروں کی پاکستانی جڑیں

برطانیہ میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے جرم میں سزا پانے والے پانچ مبینہ دہشت گردوں میں سے چار پاکستانی نژاد برطانوی باشندے تھے۔ پانچوں پر الزام تھا کہ انہوں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے پاکستان میں وقت گزارا تھا۔

بی بی سی نیوز کے نامہ نگار رچرڈ سمتھ نے پانچوں سزا یافتہ ملزمان کے پاکستان میں قیام اور سرگرمیوں کا کھوج لگانے کے لیے ان میں شامل وحید محمود اور عمر خیام کے آبائی علاقوں کا دورہ کیا۔ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے ان برطانوی شہریوں کے پاکستانی تعلقات پر مبنی رچرڈ سمتھ کی رپورٹ کچھ یوں ہے۔

’پاکستان کے راولپنڈی کے ایک نواحی شہر گوجر خان کے ایک قصبے میں کچی سڑک کے کنارے پر سفید رنگ کا ایک گھر کسی ساحلی علاقے پر چھٹیاں گزارنے والے بنگلے کی مانند ہے اور زیرِ تعمیر ہے۔ وحید محمود گوجر خان میں یہ گھر اپنے خاندان کے لیے بنوا رہا ہے۔

سزا یافتہ کون تھے؟

کھاد بنانے کے منصوبہ ساز

دہشت گردی منصوبہ، پانچ کو سزا، آپ کی رائے

وحید محمود کی سزا پر بات کرتے ہوئے اس کی ساس کہتی ہیں کہ ’ہم خدا سے دعا کریں گے۔ وہ معصوم ہے اور خدا اس کی مدد کرے گا۔ اللہ کے حکم سے وہ بے گناہ ثابت ہو گا اور وہ اس طرح کا آدمی ہرگز نہیں‘۔

ایسا لگتا ہے کہ وحید محمود کے اس راز سے اس کے خاندان والے ناواقف تھے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے وہ اور اس کے دوست برطانیہ میں بڑے دھماکے کی منصوبے بندی کر رہے تھے۔

وحید برطانیہ میں مغربی سسیکس کاؤنٹی کے علاقے کراؤلے کا رہنا والا ہے اور بظاہر شمالی پاکستان کی پہاڑیاں اس کے گھر سے ہزاروں میل کے فاصلے پر ہیں۔

لیکن وحید نے اپنے دوستوں سمیت ہزاروں میل کا یہ سفر طے کر کے شمال میں دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک پہنچا جہاں اس نے بم بنانے کی تربیت حاصل کی۔

انہی سزا یافتہ دہشت گردوں میں عمر خیام بھی شامل ہے جس کے پاکستانی تعلقات کافی گہرے دکھائی دیتے ہیں۔

عمر خیام بھی برطانیہ میں کراؤلے کا رہنے والا ہے جب کہ پاکستان میں اس کے عزیزو اقارب جاسوسی ادارے آئی ایس آئی سمیت عالیٰ فوجی عہدوں پر فائض ہیں۔

عمر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے متنازع آبائی علاقے سے محبت وراثت میں ملی اور انیس سو ننانوے میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان میں چھٹیوں کے دوران اسے اپنی نفرت کے اظہار کے لیے وسائل سے واقفیت ملی۔

پاکستان کی سرد سیاحی مقام مری میں عمر کی ملاقات ایک جہادی تنظیم البدر مجاہدین کے اراکین سے ہوئی۔ انہوں نے اسے کشمیر میں اس شرط پر جنگی تربیت دینے کا وعدہ کیا کہ وہ داڑھی رکھے گا اور مسلمانوں جیسا لباس پہنے گا۔

اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران عمر خیام نے عدالت میں اعتراف کیا کہ یہی وہ وقت تھا جب اس نے مظفرآباد کے ایک کیمپ میں تربیت حاصل کی۔ عمر نے عدالت کو بتایا کہ ’انہوں نے مجھے کشمیر میں گوریلا جنگ کے تمام حربے سکھائے۔ AK47 گن، پستول، رائفل اور راکٹ چلانا سکھائے‘۔

عمر نے عدالت میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ مظفرآباد میں اس کو دی گئی تربیت دراصل پاکستانی جاسوسی ادارے آئی ایس آئی کے زیرِ اہتمام تھی۔

پاکستان میں ہی عمر خیام اور اس کے دوستوں کی ملاقات پاکستانی نژاد امریکی مسلمان محمد بابر سے ہوئی۔ یوں تو محمد بابر کی عدالت میں گواہی نے عمر خیام اور اس کے ساتھیوں کو کیفِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن ابتداء میں بابر، عمر خیام کے گروہ کے ساتھ دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں شامل رہتا تھا۔

پاکستان میں یہ گروہ ہر وقت اس کھوج میں رہتا تھا کہ کس طرح سے جہادی کارروائیوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی جائے۔ بابر اور عمر نے مل کر پاکستان میں ایک خصوصی کیمپ لگانے کی منصوبہ بندی بھی کی جس میں مغربی ممالک کے شہری دوستوں کو قتل و غارت گری کی تربیت دی جا سکے۔

مجھے ایک مقامی صحافی اکرام ہوتی نے بتایا کہ مالاکنڈ کے پہاڑی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ وہاں پر بڑی تعداد میں لوگوں کی تربیت کرنا اور اسلحہ چھپانا انتہائی آسان ہے۔

ہم شاید یہ کبھی نہ جان سکیں کہ عمر خیام کے اس کیمپ میں کیا ہوا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران اس کے ایک سزا یافتہ ساتھی جواد اکبر مے عدالت کو بتایا کہ گولی چلانے کی تربیت کرتے ہوئے انہیں اپنے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی بندوقیں کھلونوں کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔

البتہ محمد بابر نے عدالت میں اس کیمپ کی بہتر منظر کشی ان الفاظ میں کی۔

’یہ لوگ AK47 چلانا سیکھ رہے تھے۔ انہوں نے مشین گن اور راکٹ لانچر چلانا سیکھے اور بم بنا کر تجرباتی دھماکے بھی کیئے‘۔

میں نے کراؤلے کے اس گروہ کی گرفتاری کے بعد پاکستانی حکام سے مل کر یہ جاننا چاہا کہ مستقبل میں ایسے نوجوان غیر ملکی گروہوں کے پاکستانی پہاڑیوں میں جنم لینے کے خلاف کیا اقدامات کیئے گئے ہیں لیکن بارہا درخواست کے باوجود پاکستانی حکام اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتے رہے۔

عمر خیام اور اس جیسے دیگر برطانوی نوجوانوں کے لیے مظفرآباد اور مالاکنڈ کی پہاڑیاں کسی شوقیہ نشانہ بازی کے مقام سے کہیں زیادہ پُرلطف اور مفید ثابت ہوئیں کیونکہ انہیں یہاں پر فرنٹ لائن جہادی تنظیموں میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ یہ سب وہ ساتھی مسلمان تھے جو مغرب سے شدید نفرت کرتے تھے۔

انہی مشتعل جذبات کے ساتھ یہ تمام برطانوی نوجوان واپس اپنے ملک پہنچے جہاں انہوں نے اپنے حملوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔

آخر میں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جس وقت عمر خیام کو برطانیہ میں گرفتار کیا گیا، انہی دنوں میں وہ ایک بار پھر اپنی روحانی آمجگاہ یعنی کشمیر کا دورہ کرنے والا تھا‘۔