Tuesday, 01 May, 2007, 00:50 GMT 05:50 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام گوجرانوالہ
جرمنی میں کارٹون تنازعہ کے دوران پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نوجوان عامر چیمہ کی پہلی برسی چندہ کی رقم کی وجہ سے تنازعہ کا شکار ہوگئی ہے۔
عالمی تنظیم اہلسنت نے یکم مئی منگل کو اور ان کے والدین نے تیرہ مئی کو برسی منانے کے الگ الگ اعلانات کر دیے ہیں۔
گوجرانوالہ کے نواحی گاؤں ساروکی میں اہلسنت کے زیراہتمام برسی کی تقریبات کا آغاز ہوگیا ہے لیکن عامرچیمہ کے والدین اور دیگر رشتہ داروں نے برسی کی اس تقریب میں نہ صرف شامل ہونے سے انکار کیا ہے بلکہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تقریب کو روکا جائے۔
پولیس کی بھاری نفری عامر چیمہ کے مزار کے اردگرد تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آجائے۔
ساروکی گاؤں میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے مقابلےمیں وال چاکنگ کرکے اپنی اپنی تاریخوں پر لوگوں سے برسی میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ عامر چیمہ کی قبر کے سرہانے چٹائی پر بیٹھے ان کے چچا منظور چیمہ نے کہا کہ وہ ان کے بھتیجے کے نام پر ساری زندگی چندہ اکٹھا کرنا چاہتے ہیں جو وہ نہیں ہونے دیں گے۔
یوں تو چھوٹی موٹی رنجش کا آغاز کافی پہلے سےہوچکا تھا لیکن اصل تنازعہ کا آغاز مزار سے ملحق اس چارکنال اراضی کی وجہ سے ہواجس میں سے ایک کنال عامر چیمہ کے نام پر عطیہ میں ملی اورباقی تنظیم اہلسنت نے ادائیگی پر حاصل کی۔
ان کے والدین کے علم میں جب یہ بات آئی کہ یہ اراضی مزار میں شامل نہیں ہے بلکہ ناموس رسالت کمپلیکس کے نام پر ہے جس کا بالواسطہ کنٹرول عالمی تنظیم اہلسنت کے امیرپیر افضل قادری کے پاس رہے گا تو انہوں نے کھل کر مخالفت کی۔
پروفیسر نذیر چیمہ نے پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کی موت کو بعض لوگ چندہ اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ان کے والد چچا منظور چیمہ نے کہا کہ بات اگر ناموس رسالت کمپلیکس کی ہے تو وہ پیر افضل قادری اپنے رہائشی شہرگجرات میں بھی بناسکتے تھے۔
کچھ ہی دیر میں پیر افضل قادری بھی اپنے درجنوں مریدوں اور کارکنوں کے ہمراہ پہنچ گئے لیکن مزار میں جانے کی بجائے وہ اس کے ساتھ بنی ایک چھوٹی مسجد میں جابیٹھے اور میلاد کا آغاز کردیا۔
بعد میں انہوں نے بی بی سی کو کہا کہ بات مزار پر قبضے کی نہیں ہے، اس کا کنٹرول تو چندے کے ڈبے کی چابیوں سمیت انہوں نے پہلے روز ہی ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان پر عامر چیمہ کے نام پر اکٹھے ہونے والے چندے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن وہ منگل کو تمام حساب کتاب برسی کے شرکاء کے سامنے پیش کر دیں گے۔ پیر افضل قادری نےمطالبہ کیا کہ جوابا عامر چیمہ کے والد بھی اس کے نام اکٹھے ہونے والے کروڑوں روپے کے چندے کا حساب دیں۔
مقامی گاؤں کی مکین برسی کے معاملے پر منقسم دکھائی دیے لیکن بظاہر اکثریت عامر چیمہ کے والدین کی حمایتی معلوم ہوتی تھی۔ چند مکینوں نے بتایا کہ معاملہ محض مزار کا وارث ہونے اور چندے کا نہیں بلکہ مسئلہ مسلک کا بھی ہے۔ پیر افضل قادری اور ان کے ساتھی سنی بریلوی ہیں جبکہ عامر چیمہ کے رشتہ داروں میں دیوبندی اور اہلحدیث بھی ہیں۔
![]() | |
| عامر چیمہ کی برسی کے حوالے سے گاؤں کے لوگ منقسم ہیں |
عامر چیمہ کی والدہ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے روپڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے وہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عامر چیمہ نے اپنی زندگی میں صرف دیا ہی ہے اب اس کے نام پر چندا مانگا جا رہا ہے جو میری برداشت سے باہر ہے۔‘
والد پروفیسر نذیر نے کہا کہ یکم مئی کی برسی کے اشتہار میں ان کی اجازت کے خلاف ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے برس یکم مئی کو تو ان کا بیٹا زندہ تھا، پھر اس تاریخ کو برسی کیسے منائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تیرہ مئی کو ان کے بیٹے کو دفنایا گیا تھا اور وہ اسی روز برسی منائیں گے۔
پروفیسر نذیر نے صدر پرویز مشرف کے نام ایک خط میں ان سے درخواست کی ہے کہ یکم مئی کو برسی کی تقریب کو روکا جائے۔