http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 29 April, 2007, 08:55 GMT 13:55 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے

پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ چارسدہ میں وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی ریلی پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھائیس ہو گئی ہے جبکہ باون لوگ زخمی ہیں۔ اس حملے میں خود وزیرِ داخلہ بھی معمولی زخمی ہوئے تھے۔

پشاور میں اتوار کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے صوبہ سرحد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس فیاض طورو کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس سے وفاقی تحقیقاتی اداروں کی بھی بھرپور معاونت حاصل ہوگی۔

’حملہ آور شیرپاؤ کے قریب بڑھ رہا تھا‘
’کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی‘
آفتاب شیرپاؤ پر خود کش حملہ: تصاویر
چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے

چارسدہ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر فیروز شاہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے بیٹے کے ذاتی اسسٹنٹ جہانزیب کے علاہ تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

وزیر اطلاعات نے متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ الزام تراشیوں کی بجائے امن و امان کو بر قرار رکھنے کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔

ان کے مطابق ’امن و امان کو برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت امن وامان کی بہتری کے طرف خصوصی توجہ دے‘۔

محمد علی درانی نے اپنی پریس کانفرنس میں زیادہ تر باتیں صوبہ سرحد میں امن وامان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں سے متعلق کیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے مکمل ہونے سے پہلے واقعہ کو قبائلی علاقوں کی صورتحال کے ساتھ جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں پر الزام لگایا تھاکہ وہ صوبہ سرحد میں داخل ہونے والے مشتبہ افراد کے بارے میں معلومات کا تبادلہ صوبائی حکومت سے نہیں کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکاری طور پر صوبائی حکومت کو بتایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر ایک ’کارنر میٹنگ‘ میں شرکت کریں گے اور اسی حساب سے سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔

چارسدہ کے گاؤں شیرپاؤ، اتمانزئی اور سٹیشن کورونہ میں ادا کی گئی نماز جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اس موقع پر بازار کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تاہم بعد میں بازار کھل گیا۔شہر میں سوگ کا عالم ہے اور جگہ جگہ پر کالی جھنڈیاں لہرائی گئی ہیں۔سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے پشاور، مردان اور نو شہرہ سے بلائی گئی پولیس کےاضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شیرپاؤ اپنی تقریر ختم کر چکے تھے جبکہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خفیہ حکام کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور نے وزیرِ داخلہ کے قریب پہنچنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے اسے روک لیا جس کے بعد اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر وزیرِ داخلہ کو دھماکے کے بعد خون آلود چہرے کے ساتھ اپنی گاڑی کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ باچہ گل وزیر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کوبتایا ہے کہ انہوں نےشیرپاؤ کے چہرے پر خون دیکھا ہے تاہم انہیں نہیں معلوم کہ یہ خون کس کا تھا۔

وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے بعد ازاں پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حملے کا ہدف تھے۔ انہوں نے کہا’یہ حملہ مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا تھا‘۔شیر پاؤ نے کہا کہ انہیں ہلاک ہونے والوں لوگوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’میں اس واقعہ کو سیاسی مقاصد کے لیےاستعمال نہیں کرنا چاہتا اور ہمارا یہ مصمم ارادہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی‘۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ سے قبل سنہ 2003 میں صدر جنرل پرویز مشرف اور سنہ 2004 میں وزیراعظم شوکت عزیز پر بھی ناکام خودکش حملے کیے جا چکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔