Saturday, 28 April, 2007, 08:48 GMT 13:48 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے عملی طور پر معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر لوگوں کی آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق جسٹس ایم جاوید بٹر کی سربراہی میں قائم بڑے بینچ میں جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس چودھری اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مرزا شامل ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا یہ بڑا بینچ سات مئی سے روزانہ سماعت کرے گا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی آئینی درخواست میں اپنی معطلی، جبری رخصت، صدارتی ریفرنس، اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کر رکھا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت ان کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک روکی جائے۔
چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ان کے مؤکل کی درخواست کی سماعت کے لیے فل کورٹ قائم کیا جائے۔
لیکن اب پانچ رکنی بڑے بینچ کی تشکیل سے لگتا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوانداس نے فل کورٹ کی ان کی درخواست مسترد کردی ہے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی اور ان کے خلاف صدارتی ریفرنس داخل کرنے کے بارے میں بیس سے زائد آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر ہیں اور اب جو بڑا بینچ تشکیل دیا گیا ہے وہ تمام درخواستوں کو اکٹھا کرکے سماعت کرے گا۔
چیف جسٹس کے علاوہ پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن اور وکلاء کی دیگر تنظیموں سمیت کئی وکلاء اور شہریوں اور سیاسی جماعتوں نے بھی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
چیف جسٹس کے چھ رکنی وکلاء کے پینل کے ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے مطابق انہوں نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت دو مئی سے قبل کی جائے۔ ان کے مطابق دو اور تین مئی کو سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنی ہے اور وہ کوئی بھی فیصلہ دے سکتی ہے۔
دریں اثناء صدر کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ سات مئی تک دستیاب نہیں ہوں گے اس لیے چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت سات مئی یا اس کے بعد رکھی جائے۔