Saturday, 28 April, 2007, 11:55 GMT 16:55 PST
امداد علی سومرو
لاہور
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بیظیر بھٹو کو ایسے حالات کی طرف دھکیل دیا گیا کہ اب جمہوریت ان کی ترجیح نہیں ہو سکتی۔
بقول فضل الرحمان کے اب بے نظیر بھٹو کی ترجیح ان کی اپنی ذات، اپنی ذاتی مشکلات اور سہولیات بن گئی ہیں۔
بھارت کے دورے کے بعد سنیچر کو وطن واپسی پر واہگہ بارڈر پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بینظیر بھٹو کا یہ رویہ نیا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی جب حکومت سازی کے سلسلے میں ان کی جماعت کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تب بھی مذاکرات ان کے ذاتی مقدمات کی وجہ سے ٹوٹے تھے ورنہ حکومت سازی کے حوالے سے تو ان سے معاملات طے پا چکے تھے۔
قائد حزب مخالف نے یہ بات بینظیر بھٹو سے منسوب اس بیان کے متعلق صحافیوں کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کی خاطر صدر مشرف سے ڈیل کر کے قربانی دے رہی ہیں۔
فضل الرحمان کےمطابق ’اگرچہ پیپلز پارٹی کا رویہ مایوس کن ہے پھر بھی ہم اس کو تنہائی کی طرف لے کر جانا نہیں چاہتے ہم پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔‘
اپنے دورہ بھارت کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ وہاں ان کی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں جو بات چیت ہوئی یا جو تقاریر ہوئیں ان میں خطے کی تمام صورتحال پر بات کی۔
’ ہم نے وہاں اس بات کو اجاگر کیا کہ کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ کوئی مسئلہ کسی ایک ملک کا مسئلہ ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی ایک ملک کو درپیش مسئلہ پورے خطے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہو رہا ہے، اس لیے پاک ایران بھارت گیس پائپ لائین کے سلسلے میں عالمی دباؤ ہو یا کہ گوادر پورٹ میں چینی سرمایہ کاری پر امریکہ کے تحفظات ہوں، ان تمام معاملات کے لیے چین، پاکستان، ہندوستان اور ایران کو مشترکہ حمکت عملی اختیار کرنی چاہئے۔
فضل الرحمان کے مطابق انہوں نے بھارت میں یہ بات واضح الفاظ میں کہی کہ پاک بھارت مذاکرات اور قیام امن کے سلسلے میں جاری کوششوں کی آخری منزل مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیے کیونکہ اگر کشمیر مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نہ نکالا گیا تو ان تمام کوششوں پر پانی پھر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ مولانا کے بقول بھارتی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ امن عمل کے سلسلہ کو صرف سارک سطح تک نہیں بلکہ آسیان کی سطح تک بڑھانا چاہیے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہونے والی پیش رفت کے متعلق پاکستانی حکام پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لے رہے ہیں۔