Saturday, 28 April, 2007, 18:02 GMT 23:02 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ پر مبینہ خودکش حملے کے موقع پر موجود ان کے قریبی ساتھی اور رکن صوبائی اسمبلی عمر زیب خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ دھماکہ وزیر داخلہ سے چند قدم کے فاصلے پر ہوا۔
ان کے مطابق ’جلسہ ختم ہونے کے بعد جب آفتاب احمد خان شیر پاؤ پیپلز پارٹی (ش) کے دیگر مقامی قائدین کے ہمرا جلسہ گاہ میں کھڑی اپنی گاڑی کے قریب پہنچے تو وہاں پر تقریباً سو کے قریب کارکنوں نے انکو اپنے نرغے میں لے لیا اور اس دوران پارٹی کے ایک کارکن نے ان کی طرف اپنی درخواست بڑھائی اور آفتاب شیر پاؤ اب اس شخص کی طرف متوجہ ہو ہی رہے تھے کہ ایک زودار دھماکہ ہوا‘۔
عمر زیب خان جس وقت بات کر رہے تھے تو انکے سفید کپڑے مکمل طور خون آلودہ تھے تاہم دھماکے میں انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔انہوں بے مزید بتایا کہ ’دھماکہ کے ساتھ ہی لوگوں کا شور وغوغا شروع ہوا اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اور کسی کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا‘۔
ان کے بقول دھماکے کے بعد انہوں نے درجنو ں افراد کو زمین پر گر تے دیکھا اور اس دوران آس پاس کھڑے لوگ انکی مدد کے لیے آپہنچے۔ان کےمطابق ’وزیر داخلہ کو اسی وقت کارکنوں نے گاڑی میں بٹھایا اور پشاور کی طرف روانہ کر دیا‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو ٹانگوں پر معمولی سی خراشیں آئیں اور انکے کپڑے خون آلود ہوگئے۔عمر زیب نےالزام لگایا کہ مقامی پولیس کی تعداد انتہائی کم تھی اور ذمہ دار افسران اس موقع پر سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔