http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 27 April, 2007, 01:47 GMT 06:47 PST

’صدارتی انتخاب الیکشن سے پہلے‘

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیو میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے ہی مزید پانچ سال کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پاکستان میں عام انتخابات اس سال نومبر میں ہونگے جبکہ صدر کا انتخاب اس سے پہلے ہی موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے ہو جائے گا۔ صدر مشرف اپنے دورہ یورپ کے سلسلے میں سپین کے بعد بوسنیا پہنچے ہوئے ہیں۔

جنرل مشرف نے بعض متنازعہ حالات کے نتیجے میں بارہ اکتوبر سال 1999 میں ایک منتخب حکومت کو برخاست کر کے پاکستان میں عنان اقتدار سنبھالا تھا۔ بعد میں سال دو ہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی اور صوبائی اسمبلیوں نے انہیں پانچ سال کے لیے صدر منتخب کیا تھا۔

صدر مشرف نے توقع ظاہر کی کہ وہ سیاسی جماعتیں جو ان کی حمایت کر رہی ہیں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے ان کی مدد کرینگی۔ پاکستانی آئین کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ پارلیمان میں صدر مشرف کی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہے۔

صدر مشرف کا یہ انٹرویو اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کے اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے درمیان ’شراکتِ اقتدار‘ کے لیے مصالحت کی افواہیں زوروں پر ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بےنظیر بھٹو چاہتی ہیں کہ صدر مشرف فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑ دیں، لیکن عام خیال یہ ہے کہ صدر مشرف ایسا کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

لیکن دونوں کے درمیان کسی ’ڈیل‘ کے نتیجے میں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر صدر مشرف موجودہ اسمبلیوں سے منتخب ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو بےنظیر بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی کے اراکینِ پارلیمان بس ووٹنگ میں حصہ نہ لیں۔

یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ پاکستان میں حزب مخالف کی کچھ جماعتوں کا کہنا ہے اگر صدر مشرف نے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کی تو ان کے اراکینِ پارلیمان استعفے دے سکتے ہیں۔