Thursday, 26 April, 2007, 22:34 GMT 03:34 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک تازہ واقعہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کر دیا ہے۔
پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے شہر کو مکمل طور سیل کر دیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بستی استرانہ میں ایک کیفے میں بیٹھے ہوئے دو افراد پر جمعرات کی رات ساڑھے دس بجے دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی۔
یہ ایک ہی دن میں فرقہ واریت کا دوسرا واقعہ ہے۔ جمعرات دوپہر کے وقت بعض نامعلوم افراد نے سٹیشن ہیڈ کوارٹر کی مسجد کے پیش امام حافظ محمد عدنان کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ حافظ عدنان کا تعلق سنی مسلک سے تھا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں بدھ کےروز نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ تمام فرقہ ورانہ نوعیت کے واقعات ہیں اور اب تک اس سلسلے میں کالعدم تنظیموں کے درجن بھر مشتبہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تازہ واقعات کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پولیس نے شہر سے باہر جانے اور داخل ہونے کے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشہ چند ماہ کے دوران فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک فرقہ ورانہ فسادات پر قابو پانےمیں ناکام ہے۔