Thursday, 26 April, 2007, 23:28 GMT 04:28 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کراچی
پاکستان میں معاشرتی اور سیاسی مسائل پر سٹیج ڈرامے کرنے والے اجوکا گروپ کی ڈائریکٹر مدیحہ گوہر کا کہنا ہے کہ ان کے ڈرامے برقعہ ویگنزہ پر پابندی کے فیصلہ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت نے روشن خیالی کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔
وفاقی وزیرِ ثقافت غازی گلاب جمال نے جمعرات کو قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت نے لاہور میں ایک سٹیج ڈرامے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم ایم کی جن خواتین نے اس معاملے کو اٹھایا ہے اور کہا کہ ڈرامے پر پابندی عائد کر کے آرٹسٹوں کو گرفتار کیا جائے ان سے تو یہ توقع رکھی جاسکتی ہے مگر حیرت اس بات پر ہے کہ روشن خیالی کی باتیں کرنے والی حکومت نے اس ڈرامے پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
مدیحہ گوہر نے بتایا کہ برقعہ ویگنزہ بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے، یہ ڈرامہ تو حکومت کی ہی پالیسی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرامہ لاہور میں پانچ روز سٹیج کیا گیا ہے، ان کے گروپ کا پروگرام تھا کہ اسے لاہور کے ساتھ اسلام آباد ، کراچی اور دیگر شہروں میں بھی پیش کیا جائے گا کیونکہ اس کا اچھا ریسپانس ملا تھا ۔
برقعہ ویگنزہ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرامہ ایک لو سٹوری پر مبنی ہے، جس میں ایک نوجوان جوڑا ہے جو برقعے پہن کر چھپ کر ملتا ، اور ایک برقعہ پوش بریگیڈ گشت کرتی رہتی ہے۔
مدیحہ گوہر کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے کی حقیقی مثال اسلام آباد کا مدرسہ حفصہ ہے۔’ حکومت ان پر تو پابندی نہیں عائد کر رہی لیکن اس کے خلاف جو آواز اٹھا رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جارہی ہے‘۔
اجوکا کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ حکومت نے بغیر کسی تحقیقات کے اس ڈرامے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا کیونکہ آئین اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے اور یہ فیصلہ اس کے برخلاف ہے۔