http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 25 April, 2007, 11:48 GMT 16:48 PST

ہارون رشید، احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’مجھے حراست میں رکھا گیا‘

سپریم کورٹ کے ’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ جب انہوں نے صدر کے کہنے پر استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو انہیں صدراتی کیمپ آفس میں حراست میں لے لیا گیا۔

یہ الزام چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک آئینی درخواست میں لگایا ہے۔ اس درخواست میں صدر، وفاق پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور سپریم کورٹ، سندھ اور لاہور ہائی کورٹس کے رجسٹرار کو مدعا علیہان بنایا گیا ہے۔

چالیس صفحات پر مشتمل اس درخواست میں چیف جسٹس نے انہیں جبری چھٹی پر بھجوائے جانے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی ترکیب اور اہلیت سے متعلق اعتراضات اٹھائے ہیں۔

آئینی ماہرین کے مطابق اس درخواست میں چیف جسٹس نے ججوں پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیئے ہیں جس سے عدلیہ کے تقسیم ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

یہ الزامات جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی آئینی درخواست کے تیسرے حصے میں لگائے ہیں جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی ترکیب اور اہلیت سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔

درخواست میں سپریم جوڈیشئل کونسل میں شامل بعض ججوں پر تعصب اور ذاتی مفادات وابستہ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ملک کی عدالتیں اسے بنیادی حق قرار دے چکی ہیں کہ عدالتی عمل یا مقدمے کی سماعت غیر جانبدار فورم کے ذریعے ہو جبکہ آئین کا آرٹیکل 9 بھی اس بات کی ضمانت دیتا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کا ایک ٹی وی انٹریو میں کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے خود ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی اور انہیں طلب نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم درخواست میں اس ملاقات کے لیے چیف جسٹس نے ’حراست’ کا لفظ استعمال کیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہیں کونسل سے جس میں یہ تین جج شامل ہوں انصاف یا غیرجانبدار شنوائی کی کوئی امید نہیں ہے

درخواست میں اس سلسلے میں شرف فریدی کیس، الجہاد ٹرسٹ کیس، عزیز اللہ میمن کیس اور آفتاب شعبان میرانی کیس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

درخواست میں کہاگیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنی موجودہ شکل میں درخواست گزار کے ساتھ انصاف کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کے پانچ میں تین ارکان کو درخواست گزار کے چیف جسٹس کے عہدے سے علحیدگی کی صورت میں براہ راست فائدہ پہنچے گا یا وہ درخواست گزار کی جانب بدنیتی اور عناد کا مظاہرہ کریں گے۔

جسٹس جاوید اقبال پر الزام
ان ارکان میں سرفہرست جسٹس جاوید اقبال کا تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے چیف جسٹس نہ رہنے کے نتیجے میں جسٹس جاوید اقبال کے چار سال سے زائد مدت کے لیے مستقل چیف جسٹس بن جانے کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔

درخواست میں استفسار کیا گیا ہے کہ کیا جاوید اقبال درخواست گزار کے خلاف فیصلہ دینے کے فطری روئیے سے گریز کر پائیں گے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی تنخواہ اور مراعات عدالت عظمی کے دوسرے ججوں سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے درخواست گذار کے چیف جسٹس نہ رہنے کے بعد جسٹس جاوید اقبال کو براہ راست اہم مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے دوڑے دوڑے گئے اور اس کی خوشی بھی منائی اس وقت جبکہ درخواست گزار یعنی چیف جسٹس آف پاکستان راولپنڈی میں صدر مملکت کے دفتر میں زیر حراست تھے جسے پوری قوم نے میڈیا پر دیکھا۔

’انہوں نے حلف اٹھانے سے پہلے اپنے چیف جسٹس کی حراست کے حالات اور وجوہات معلوم کرنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کے چار دن بعد تک ایسا کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس عہدے کو پانے کے لیے بے تاب تھے۔‘

اس الزام میں کوئی صداقت نہیں لیکن جسٹس جاوید اقبال نے اسی کالج میں اپنی دو بیٹیوں عائشہ جاوید اور قیصرہ جاوید کے داخلے کروائے اس کے باوجود کہ وہ میرٹ پر پورا نہیں اتر رہی تھیں۔ ان میں عائشہ کا داخلہ خصوصی کوٹے اور قیصرپ کا داخلہ آزاد جموں و کشمیر کے کوٹے پر کروایا گیا۔‘

درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس جاوید نے اپنے داماد کو جو سول جج تھا، بلوچستان میں داخلہ اور قبائلی امور کے محکمے میں ڈپٹی سیکریٹری کے عہدے پر فائز کروایا جو کہ صریحاً خلاف قاعدہ تھا۔

درخواست گزار کے مطابق جسٹس جاوید کی چیف جسٹس کو ہٹوانے کی غیرمناسب خواہش کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ انہوں نے نو مارچ کو دفتری اوقات کے بعد جلد بازی میں کونسل کا اجلاس طلب کرلیا تھا حالانکہ اس وقت سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس عارضی چھٹی پر گئے ہوئے تھے اور یہ اجلاس وہ ان کی واپسی کے بعد بھی بلاسکتے تھے۔

جسٹس عبدل حمید ڈوگر

دوسرے متنازعہ جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بارے میں درخواست میں سب سے کم اعتراضات لگائے گئے ہیں۔

جسٹس افتخار کا کہنا ہے کہ جسٹس حمید ڈوگر نے جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلانے میں تیزی کی اور اس کو بطور ایک خوشی منایا حالانکہ درخواست گزار اس وقت بھی راولپنڈی میں زیرحراست تھے۔ ان کا سوال تھا کہ اس میں خوشی منانے کا ایسا کیا تھا؟

جسٹس افتخار کا کہنا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف شاہ عبدالطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور کے فنڈز میں مبینہ خوردبرد کے خلاف ایک ریفرینس/شکایت زیرالتوا ہے۔ یہ کونسل کے ریکارڈ پر پہلے سے موجود ہے۔ ان کا مدعا ہے کہ اگر کسی جج کے خلاف محض شکایت دائر کرنا اسے ’غیر فعال‘ بنانے کے لیے کافی ہے تو پھر انہیں بھی کونسل میں بیٹھنے نہ دیا جائے۔

جسٹس افتخار حسین چوہدری

تیسرے جج جسٹس افتخار حسین چوہدری کے بارے میں درخواست میں ’ذاتی تعصب‘ اور ’دیرینہ نفرت‘ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

درخواست گزار جسٹس افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ اسی بدنیتی کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یقین ہے کہ ان کی موجودگی میں ان کا کیریئر میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اگر جسٹس افتخار حسین چوہدری کی سپریم کورٹ میں تعیناتی ہو جاتی تو انہیں تین برس کی توسیع مل سکتی ہے جس دوران انہیں اضافی تنخواہ اور مراعات دستیاب ہوں گی۔ لہذا درخواست گزار کا موقف ہے کہ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے معاشی مفادات کا انحصار اس ریفرنس کے فیصلے پر ہے۔

لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بقول جسٹس افتخار چوہدری دونوں آپس میں بات بھی نہیں کرتے بلکہ ہاتھ تک نہیں ملاتے۔

درخواست گزار نے الزام لگایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بھائی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں (چوہدری شہباز حسین، وزیر بہبودی آبادی) اور میڈیا کے ذریعے ان پر تنقید کرتے رہے ہیں اور صدر کے اقدام کی تائید کرتے رہے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق یہ جج سماعت کرنے کے لیئے نااہل ہیں۔