http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 25 April, 2007, 02:06 GMT 07:06 PST

جاوید سومرو
بی بی سی اردو سروس، لندن

جمہوری قوتوں کو موقع دیں: بینظیر

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان میں برسر اقتدار مسلم لیگ (ق) اور متحدہ مجلس عمل دونوں طالبان اور دوسرے انتہا پسند عناصر کی حامی سیاسی قوتیں ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کو جنرل مشرف کی سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے، لیکن بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان سیاسی جماعتوں کو اقتدار سے علیحدہ کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

اعلیٰ تعلیم کے معروف ادارے لندن سکول آف اکنامکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی سیاسی قوت ہیں۔

تاہم ان کے لب و لہجہ میں جنرل مشرف کے خلاف وہ جارحیت نظر نہیں آئی جس کا کہ وہ اب تک مظاہرہ کرتی آئی ہیں۔ انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کی پروردہ جماعت مسلم لیگ (ق) پر بھی الزام لگایا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کی حمایتی رہی ہے۔

تاہم انہوں نے صدر مشرف پر براہ راست کوئی تنقید نہیں کی۔

بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے مذہبی منافرت سے دور رہنے والی اعتدال پسند سیاسی قوتوں کو جمہوریت کے ساتھ پنپنے کا موقع ملنا۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کا ملک میں حزب اختلاف ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ پاکستان میں ملائیت کو عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔

بےنظیر بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اے آر ڈی میں شامل دوسری جماعتیں ملک میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کے لیے مکمل اتفاق رائے رکھتی ہیں۔

وطن واپسی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آخر تک وہ پاکستان میں ہونگی۔