Tuesday, 24 April, 2007, 11:43 GMT 16:43 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باڑہ میں گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں چھ طلباء کی ہلاکت کے بعد سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
دوسری طرف پشاور شہر سے متصل تحصیل باڑہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے حامیوں اور طلباء کی جانب سے ہلاکتوں کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق جلسے میں مسلح قبائلیوں اور مختلف سرکاری اور نجی سکولوں کے طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جلسے سے خطاب میں لشکر اسلام کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
اس موقع پر سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے طالب علموں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
![]() | |
| لشکر ِاسلام کے حامی طلباء اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپ میں چار طلباء زخمی بھی ہوئے تھے |
گزشتہ روز لشکر ِاسلام کے حامی طلباء اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپ میں چھ طلباء ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے تھے۔
باڑہ میں ڈیڑھ سال قبل پنچ پیری مسلک کے رہنماء مفتی منیر شاکر اور اہل سنت کے افغان نژاد رہنماء پیر سیف الرحمٰن کے حامیوں میں مذہبی عقائد کی بنیاد پر کئی جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن حکومت اور قبائلیوں کی کاوشوں سے دونوں رہنماؤں نے علاقہ چھوڑ دیا تھا تاہم علاقے میں دونوں شخصیات کے حامیوں نے تنظیمیں قائم کر کے ایک دوسرے کے خلاف حملے جاری رکھے۔
حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب مفتی منیر شاکر کی حمایت یافتہ تنظیم لشکرِ اسلام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فرنٹیئر کور کے زیر قبضہ پیر سیف الرحمن کی جائیداد کو ان کے حوالے کردے اور مفتی منیر شاکر کو رہا کیا جائے مگر حکومت نے مطالبا ت ماننے سے انکار کردیا تھا۔
باڑہ میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران متحارب گروپوں کے درمیان تصادم اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو بیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔