Tuesday, 24 April, 2007, 16:59 GMT 21:59 PST
مظہر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یہ پہلی بار نہیں کہ تئیس مارچ 2005 کو شروع ہونے والے ’ آج‘ ٹی وی کو فوجی حکومت کی طرف سے کارروائی کا سامنا ہے۔
پاکستان کے ایک معتبر میڈیا ہاؤس، بزنس ریکارڈر کے اس ٹی وی چینل کا آغاز تو اقتصادی خبروں کے چینل کے طور پر ہوا تھا لیکن پچھلے دو برسوں سے آج ٹی وی یقنناً پاکستان کا حکومت پر سب سے زیادہ تنقیدی اور سیاسی طور پر آزاد خیال نیوز چینل بن کر ابھرا ہے۔
آج ٹی وی کی اس سیاسی تبدیلی کے سفر کا آغاز اکتوبر دو ہزار پانچ میں زلزلے کی کوریج سے ہوا۔ اتنے بڑے سکیل پر ہونے والی تباہی کی کوریج میں جہاں پاکستان کے دوسرے ٹی وی چینلز مکمل طور پر کنفیوز اور حالات کی مناسب رپورٹنگ کرنے میں ناکام دکھائی دیے وہیں آج ٹی وی نے دور دراز کے علاقوں میں پہنچ کر زلزلے سے متاثرہ افراد کومسلسل اپنے نیوز ایجینڈے پر رکھا۔
حکومت کو آج ٹی وی کی یہ تنقیدی کوریج بالکل بھی نہیں بھائی اور اس پر مسلسل ’مثبت‘ رپورٹنگ کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ اسی دوران آج ٹی وی کی ایک رپورٹ کی فلم بندی کے دوران زلزلے سے متاثرہ ایک عورت کی موت اور اس رپورٹ کے نشر کیے جانے پر حکومتی حلقوں کی طرف سے خاص طور پر شدید رد عمل سامنے آیا۔
بات یہاں تک جا پہنچی کے جنرل مشرف نے پبلک میں کھل کر بلواسطہ طور پر آج ٹی وی پر تنقید کی اور کہا کہ ’یہ جو لوگ کیمرے لے کر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں انہیں معلوم نہیں کہ آرمی کی موومنٹ کتنی مشکل ہوتی ہے‘۔
بعد میں حکومت کی طرف معاملے کو کور اپ کرنے کی غرض سے زلزلے کی کوریج پر آج ٹی وی کو دیے جانے والے ایوراڈ کو چینل کے نیوز ڈائریکٹر طلعت حسین نے قبول کرنے سے انکار بھی کیا۔
’آج‘ کے پچھلے دو برس |
زلزلے کے بعد آج ٹی وی کا حکومت سے براہ راست ٹکراؤ بلوچستان کے حالات کی رپورٹنگ پر ہوا۔ صوبے میں جاری آپریشن کےبارے میں معلومات تک رسائی کے لیے آج ٹی وی ان بہت کم چینلز میں ایک تھا جس نے علاقے میں اپنی ٹیمیں بھیجنے کی کوشش کی۔ حکومت نے اس وقت بھی آج ٹی وی کو نہ صرف بند کرنے کی دھمکی دی بلکہ ایک مرتبہ چینل کی ایک ٹیم کو حکومتی اہلکاروں نے زدوکوب بھی کیا۔ اسی دوران آج کی طرف سے اکبر بگٹی کے ساتھ کیے جانے والے ایک انٹرویو کو نشر کیے جانے سے روکا بھی گیا۔
قبائیلی علاقوں میں آپریشن
ملک میں جاری دوسرے فوجی آپریشن کی کوریج پر بھی آج ٹی وی حکومتی کارروائی کا نشانہ بنا اور ڈومہ ڈولا میں ہونے والے حملے کے فوراً بعد آج ٹی وی کی ایک ٹیم خفیہ طور پر علاقے میں پہنچنے اور وہاں عام لوگوں سے بات کرنے میں کامیاب رہی۔ اس پروگرام کے نشر کیے جانے سے پہلے اس کی ٹریل چلانے کے فوراً بعد حکومت نے آج ٹی وی کو پروگرام نشر نہ کرنے کا حکم دیا جس پر آج ٹی وی نے پروگرام کے اعلان شدہ وقت پر ٹی وی سکرین پر ایک کالی پٹی چلائی جس پر درج تھا کہ ’کچھ ایسی وجوہات کی بنا پر جن پر ہمارا اختیار نہیں ہے ہم آپ کو یہ پروگرام نہیں دکھا پائیں گے‘۔
عدالتی بحران
آج ٹی وی اور حکومت کے درمیان جاری تناؤ اپنی جگہ پر لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ ان پہلے چینلز میں سے ہے جو مقامی طور پر اپ لنک کیے جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے انہی وجوہات کی بنا پر آج ٹی وی یقینناً حکومت کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ سے گریز کرنا ہی بہتر سمجھے گا۔
آخر میں شائد صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’آج‘ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوگا وہ یقینناً پاکستان میں میڈیا کے کل کے لیے بہت ہی اہم ہوگا۔