Monday, 23 April, 2007, 09:16 GMT 14:16 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں بند ہونے والے سرکاری دفاتر اور بینک سترہ روز کے بعد دوبارہ کھل گئے ہیں تاہم مرکزی پارہ چنار ٹل شاہراہ اور تعلیمی اداراے بدستور بند ہیں۔
کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے پیر کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دو دن قبل ہی مقامی انتظامیہ نے علاقے میں چھ اپریل سے بند تمام سرکاری دفاتر اور بینک کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوموار کی صبح ہی سے سرکاری دفاتر اور بینکوں کے سامنے وقت سے پہلے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تھے جبکہ بعض دفاتر میں عملے کی ڈیوٹی پر غیر حاضری کے بھی اطلاعات ہیں۔
ادھر دوسری طرف مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ بدستور بند ہے جس کی وجہ سے علاقے میں اشیاء خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ لوگوں اور سامان سے بھرے ہوئے ٹرکوں کو ٹل سے پارہ چنار تک فوجی قافلوں کے ذریعے سے لے جایا جارہا ہے جبکہ روزانہ ایک قافلہ جاتا ہے ۔ سڑکوں کی بندش کے باعث طلباء کی ایک بڑی تعداد پارہ چنار میں پھنسی ہوئی ہے ۔
علاقے میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداراےگزشتہ سترہ دنوں سے بدستور بند ہے ۔
پولیٹکل انتظامیہ نے علاقے میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے نئے اعداد وشمار پیش کئے ہیں جس کے مطابق تریاسی 83 افراد ہلاک جبکہ دوسو دس زخمی ہوئے ہیں تاہم مقامی اور آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ چھ اپریل کو پارہ چنار میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس کے بعد یہ جھڑپیں قریبی علاقوں تک پھیلنے کے وجہ سے ایک ہفتے تک جاری تھے ۔ مقامی انتظامیہ نےتین دن قبل کرم ایجنسی میں فریقین کے مابین تحریری معاہدے کے لئے پچاس شعیہ اور پچاس سنی مشران پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا ہے جس نے کام کا اغاز کردیا ہے۔