Monday, 23 April, 2007, 12:07 GMT 17:07 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں حالیہ عدالتی بحراں پر احتجاج کے طور پر حکومت پنجاب کے ایک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چودھری خادم حسین قیصر مستعفی ہوگئے ہیں اور انہوں اپنا استعفٰی گورنر پنجاب کو بھجوادیا ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خادم حسین قیصر کا تعلق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے ضلع گجرات سے ہے اور وہ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین اور صدر گجرات بار ایسوسی رہ چکے ہیں۔
چند روز قبل ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر جنرل سید نوید عباس نے بھی استعفٰی دے دیا تھا۔ عدالتی بحران پر اب تک لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج، ایک ڈ پٹی اٹارنی جنرل، سندھ سے چھ اور پنجاب سے دو سول جج مستعفی ہوچکے ہیں۔
خادم حسین قیصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے مستعفی ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے بڑا انتظار کیا کہ شاید یہ ریفرنس واپس ہوجائے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کے بیان کے بعد انہیں لگتا ہے کہ اس بات کا امکان ختم ہوگیا تھا۔ اس لیے وہ ضمیر کی آواز پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے منصب سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ بدسلوکی اور وکلاء پر تشدد کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے منصب پر فائز نہیں رہ سکتے تھے۔ اب وہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلاء کی جدوجہد میں شامل ہوسکیں گے۔
خادم حسین قیصر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس بلاجواز ہے۔ حکومت کو چاہیےتھا کہ وہ یہ ریفرنس واپس لیتی۔
خادم حسین قیصر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مستعفی ہونے کے بعد چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ ملاقات کی ہے۔