Monday, 23 April, 2007, 13:58 GMT 18:58 PST
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں چار دن قبل قتل کیے گئے سلیم بگٹی کےسابق منشی غلام رسول لاشاری کے ورثاء خوف کی وجہ سے گھر چھوڑ کر نقل مقانی کر گئے ہیں۔
اپنا آبائی گاؤں چھوڑنے سے قبل مقتول غلام رسول لاشاری کے ورثاء نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ وہ علاقہ بگٹیوں کے خوف کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ بگٹیوں نے ان پر مخبرہونے کا الزام لگایا ہے۔
مقتول لاشاری کے والد امام بخش لاشاری کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو مخبری کے الزام میں بیگناہ قتل کیا گیا ہے، وہ مخبر نہیں تھا۔
سلیم بگٹی کے سابق منشی غلام رسول لاشاری کے قتل کا مقدمہ بگٹیوں کے حالیہ منشی بقادار بگٹی کے بیٹے بہادر بگٹی اور ان کے تین ساتھیوں الہندو بگٹی ، خادم بگٹی اور رسول بخش عرف ڈینگی بگٹی کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
سانگھڑ پولیس کے ڈی ایس پی عابد قائم خانی نے بی بی سی کو بتا یا کہ لاشاری قتل کیس میں دو ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ لاشاری قبیلے کے افراد خوف کی وجہ سے کہیں چلے گئے ہوں لیکن ان کی اطلاعات کے مطابق وہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے گئے ہیں، کیونکہ بگٹی کی زرعی زمین حکومتی تحویل میں ہے اور ان کا گزارہ مشکل ہوگیا تھا۔
![]() | |
| سانگھڑ پولیس کے ڈی ایس پی عابد قائم خانی کی اطلاعات کے مطابق لاشاری روزگار نہ ہونے کی وجہ سے گئے ہیں |
ان کے قتل کے بعد پانچ سو افراد پر مشتمل ان کے ورثاء نے اپنے گھروں کو خود ہی مسمار کر دیا اور رحیم یار خان، کوٹ لالو، بھریا سٹی اور دیگر شہروں کی جانب روانہ ہو گئے۔
نواب اکبر کے بیٹے جمیل بگٹی نے سانگھڑ میں بگٹیوں اور لاشاریوں کے درمیان کشیدگی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے جمیل بگٹی نے کہا ’سکیورٹی ایجنسیوں کے خوف کی وجہ سے ہمارے آدمی ہم سے رابطہ نہیں کر رہے، کیونکہ جو بات آپ اور ہم کر رہے ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں ریکارڈ ہو رہی ہے۔‘
جمیل بگٹی کا کہنا تھا کہ انہیں علم نہیں کہ لاشاری مخبر تھا یا نہیں اور انہیں یہ بھی پتا نہیں کہ لاشاری کو بگٹیوں نے قتل کیا ہے۔
ان کے بقول ڈیرہ بگٹی، سوئی اور سانگھڑ میں سے کسی علاقے کے لوگ ان سے رابطے میں نہیں ہیں۔