Monday, 23 April, 2007, 06:38 GMT 11:38 PST
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں آج دوسرے روز بھی ایک مذہبی گروپ کے حامیوں کی جانب سے جن میں اکثریت طلبہ کی ہے احتجاج جاری ہے اور فائرنگ کے ایک واقعے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ قبائلی رہنما منگل باغ آفیردی کے لشکر اسلامی گروپ کے کارکنوں نے پیر کی صبح دوبارہ احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور مخالف گروپ نے پیر سیف الرحمان کے مرکز پر قبضے کی کوشش کی۔ اس دوران فائرنگ کے واقعے میں عینی شاہدین ہلاکتوں کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں معلومات اکھٹی کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز باڑہ میں سینکڑوں کی تعداد میں لشکر اسلامی کے حامی جن میں اکثریت کالج اور سکولوں کے طالب علم ہیں حکومت سے یہ مرکز واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علاقے میں ایک مصالحتی جرگے نے بھی امن لانے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
جمعہ کو حکام نے لشکر اسلامی کے احاطے کو مندہدم کیا تھا جس کے رد عمل میں لشکر اسلامی نے احتجاج کا یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔
فائرنگ میں مارٹر گولے بھی داغے جانے کی اطلاع ہے۔ تاہم فائرنگ کا سلسلہ اب رک گیا ہے۔ فائرنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔