Friday, 20 April, 2007, 09:40 GMT 14:40 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، وانا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ازبک شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی سربراہی کرنے والے مقامی طالبان کے سربراہ ملا نذیر احمد کا کہنا ہے کہ ’فساد گر‘ غیرملکیوں کے لیے اور ان کے علاقے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
بتیس سالہ ملا نذیر احمد صدر مقام وانا میں جمعہ کی صبح صحافیوں کے سامنے پہلی مرتبہ اپنے موقف کی وضاحت کے لیے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ازبک باشندوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی شکایت میں اضافے کے بعد انہوں نے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ’یہ شکایات صرف وانا تک محدود نہیں تھیں بلکہ ٹانک جیسے علاقوں سے بھی ملی تھیں‘۔
اطلاعات کے مطابق ملا نذیر کو گزشتہ برس طالبان نے وانا میں مقامی شدت پسندوں کا امیر مقرر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے طالبان کا یہاں کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ ’ان کے پاس اپنے آزاد علاقے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔’
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی رسم و رواج کے مطابق جو بھی یہاں رہنا چاہے وہ رہ سکتا ہے خواہ وہ افغانستان کے طالبان ہوں یا اسامہ بن لادن۔ ’ان کے لیے شرط صرف یہ ہے کہ وہ مقامی روایات اور قانون کو تسلیم کریں کیونکہ اس علاقے میں امن کی ذمہ داری اب ہمارے سر ہے۔‘
![]() بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید ملا نذیر احمد کے ہمراہ |
ملا نذیر افغانستان کے طالبان کے ساتھ ماضی میں تخار اور قندوز کے علاقوں میں شمالی اتحاد کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے اسامہ، ملا محمد عمر یا کسی اور اہم القاعدہ رہنما سے اب تک ملاقات سے انکار کیا۔ انہوں نے البتہ ازبکوں کے رہنما قاری طاہر یلدیش سے دو برس قبل ملاقات کا اعتراف کیا۔
ازبکوں کے خلاف کارروائی سے قبل کسی پرامن حل کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خود افغانستان میں برسرپیکار طالبان کے رہنما سراج الدین حقانی ان کے پاس ان غیرملکیوں کو کسی دوسرے مقام منتقل کرنے کی تجویز کے ساتھ آئے تھے۔ تاہم خود ازبکوں کے سربراہ قاری طاہر یلدیش کے انکار کے بعد اس پر غور نہ ہوسکا۔
مقامی طالبان کے سربراہ ملا نذیر نے اس لڑائی میں ازبکوں کے ایک سرکردہ رہنما مفتی ابو بکر کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ قاری طاہر کے بارے میں انہوں نہیں معلوم وہ کہاں ہیں۔ لڑائی کے ابتدائی دنوں میں قاری طاہر کی ہلاکت کی افواہوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ازبکوں کے رونے دھونے سے انہوں نے یہ اندازہ لگایا تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔
بچ جانے والے ازبکوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے وہ یا تو شمالی وزیرستان میں میر علی یا پھر افغانستان چلے گئے ہوں۔
ملا نذیر نے طالبان کے سینئر کمانڈر ملا داد اللہ اور اسامہ بن لادن کے علاقے میں آنے کے حوالے سے اطلاعات کو غلط قرار دیا۔ انہوں نے اس تنازعے پر طالبان کے درمیان تقسیم کے تاثر کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔
پاکستان فوج کی اس لڑائی میں مدد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ملا نذیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان کے زخمیوں کا علاج کیا، اپنی چوکیوں پر دوبارہ قبضہ کیا جو ماضی میں انہوں نے خالی کر دی تھیں اور غیرملکیوں کے خلاف ان چوکیوں پر قبضے کے دوران حملے بھی کیے۔
وانا کے مغرب میں تین ہفتوں تک مقامی طالبان اور غیرملکیوں کے درمیان لڑائی میں جانی نقصانات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سے دو سو ازبک جبکہ ان کے تیس افراد ہلاک ہوئے۔
یہ اعدادوشمار سرکاری اعداد سے قدرے کم ہیں۔ سرکاری اہلکار اس تصادم میں دو سو ساٹھ غیرملکیوں کے ہلاک ہونے کا دعوی کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جعمرات کے روز لشکر نے ایک کارروائی میں ازبکوں کے تین مقامی ساتھیوں کو حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اپنی غلطی تسلیم کرکے ازبکوں سے واپس لوٹنے والوں کے لیِے انہوں نے عام معافی کا اعلان کر رکھا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ یہ معافی حاجی عمر اور نور اسلام جیسے مقامی شدت پسند رہنماؤں کے لیے بھی موثر ہوگی کہ نہیں۔ ان دونوں نے ازبکوں کا اس حالیہ لڑائی میں ساتھ دیا تھا۔
ملا نذیر کا کہنا تھا: ’باطل قوتوں کے خلاف ان کا جہاد ہر وقت جاری رہے گا‘۔ انہوں نے افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کو ناجائز اور مسئلے کی اصل جڑ قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا: ’افغانستان جاکر لڑائی ان کا ہدف نہیں۔ فی الحال ان کے لیے بڑا مسئلہ اپنی علاقے میں امن کا قیام ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اب جنوبی وزیرستان سے افغانستان لڑائی کی غرض سے کوئی نہیں جا رہا۔
ملا نذیر نے بتایا کہ ان کے پاس پاکستان اور افغانستان کی دوہری شہریت ہے۔ ان کی وانا میں جائیداد کے علاوہ جنوبی صوبے قندہار میں بھی زرعی اراضی ہے۔ ’ہمارے لیے دونوں ملک ایک جیسے ہیں۔ ہم آتے جاتے رہے ہیں‘۔
پاکستانی حکومت کو ایک پیغام میں ملا نذیر کا کہنا تھا کہ حکمراں اسلام آباد میں بیٹھ کر فتوے جاری نہ کریں بلکہ یہاں کے مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دیں۔
بی بی سی کے ایک سوالے کے جواب میں کہ ان کا خود کردار واضح نہیں کیونکہ انہیں طالبان نے امیر مقرر کیا تھا تو پھر وہ کیسے ان کے خلاف ازبکوں کے خلاف کارروائی کرنے لگے تو انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔