http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 April, 2007, 12:10 GMT 17:10 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’محبت نامے کی سزا دو لاکھ روپے‘

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے گاؤں دارمنگی میں ایک جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی لڑکی کے نام بھیجے جانے والے محبت نامے کی سزا دو لاکھ روپے ہوگی۔

یہ فیصلہ پشاور سے سات کلومیٹر دور واقع گاؤں دارمنگی میں ایک قبائلی جرگے نے اس وقت کیا جب انہوں نے ایک طالبعلم کو مبینہ طور پر ایک لڑکی کو خط لکھنے کے الزام میں تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

دارمنگی کی ایک فلاحی تنظیم دارمنگی ویلفیئر اینڈ ڈیویلپمنٹ کے سربراہ روشان خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جرگے نے ایک سترہ سالہ افغان طالبعلم کو ایک طالبہ کو خط دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے الزام کے تحت تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

روشان خان کے مطابق ’ گزشتہ کچھ عرصے سے شکایات مل رہی تھیں کہ بعض لڑکے مدرسے کی لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں اور خود مدرسے کے مہتمم نے بھی یہ شکایت کی تھی لہذا گاؤں کے لوگوں نے اس پر نظر رکھی اور اس لڑکے کو ایک لڑکی کی طرف خط پھینکتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا‘۔

روشان خان نے کہا کہ گاؤں کے مشتعل افراد نے لڑکے کے گھر کو نذر آتش کرنے اور اس کو گاؤں بدر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ان کی تنظیم کی مداخلت پر معاملہ افہام و تفہیم کے ذریعےحل ہوگیا۔

محبت نامہ لکھنے کی سزا
 جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ محبت کے خطوط لکھنے کی سزا دو لاکھ روپے جرمانہ کی ہوگی اور اس کام کے مرتکب شخص کو علاقہ بدر بھی کیا جاسکتا ہے
 

انہوں نے کہا کہ جرگے میں گاؤں کے تقریباً سو معتبرین نے شرکت کی اور لڑکے نے خط لکھنے کا اعتراف کیا جس پر ان کو تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تاہم اس کو خبردار کیا گیا کہ آئندہ ایسی حرکت کی سزا سنگین ہوگی۔

روشان خان کا کہنا تھا کہ لڑکے نے خط میں پیار کا اظہار کیا تھا اور اس میں کچھ شعر بھی لکھے گئے تھے جبکہ اس کے سکول کی کاپی سے ایک اور خط بھی
بر آمد ہوا۔

روشان کے بقول جرگے نے فیصلہ کیا کہ آئندہ محبت کے خطوط لکھنے کی سزا دو لاکھ روپے جرمانہ کی ہوگی اور اس کام کے مرتکب شخص کو علاقہ بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔

اس سلسلے علاقے کے ناظم اور لڑکے کے اہل خانہ سے رابطے کی بہت کوشش کی گئی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔