Thursday, 19 April, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا اے آر ڈی کے ارکان نے اتحاد کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں شرکت کے لئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مشترکہ طور پر ایک تحریری درخواست آج قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی ہے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری امیر حسین کے نام یہ درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی چوہدری اعتزاز احسن، سید خورشید شاہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر نثار علی خان اور جاوید ہاشمی کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی نے مشترکہ طور پر دی ہے۔
درخواست میں اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 23 اپریل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جاوید ہاشمی کی شرکت کے لیے ضروری حکم نامہ جاری کریں تاکہ وہ ایوان میں اپنے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی زیر حراست ارکان اسمبلی کو اس طرح ایوان میں بلایا جاتا رہا ہے۔ ’وہ چاہے ہمارا زمانہ ہو یا نواز شریف صاحب کا زمانہ ہو گرفتار ممبران کو بلایا جاتا رہا ہے۔ ان میں چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری بھی شامل رہے ہیں۔‘
جاوید ہاشمی کو اسمبلی کے اجلاس میں شریک کرانے کے سلسلے میں اس سے قبل بھی حزب اختلاف کی جانب سے متعدد درخواستیں دی جا چکی ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔
جاوید ہاشمی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر بھی ہیں ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت میں قید ہیں۔ انہیں ساڑھے تین سال قبل اکتوبر 2003 ء کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بند کمرے میں ہوئی تھی جس کے بعد انہیں 23 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
ان کی گرفتاری کی وجہ مبینہ طور پر ایک گمنام فوجی کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بنا تھا جو انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفیٹریا میں پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا تھا۔ اس خط میں جنرل پرویز مشرف کی حکمرانی پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔