Thursday, 19 April, 2007, 12:59 GMT 17:59 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
جمعرات کے روز اسلام آباد، کراچی، پشاور اور لاہور سمیت کئی شہروں میں سِول سوسائٹی کی تنظیموں نے جامعہ حفصہ کی انتظامیہ اور طالبات کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مال روڈ پر جی پی او چوک سے چیئرنگ کراس تک ریلی نکالی گئی۔ دو ڈھائی ہزار شرکاء میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی اور وہ زیادہ جوش و خروش سے نعرے لگا رہی تھیں۔ ان کے نعرے تھے، یہ عورت مانگے آزادی، ملا ملٹری الائنس نامنظور، فتوی گیر ملاء ہائے ہائے، جیو اور جینے دو۔
راستے میں انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے مائیک لیکر نعرے لگوائے: میں ناچوں گی میں گاؤں گی، بھاگ ملا عورت آئی، راستے میں جلوس کے شرکاء پر پھول نچھاور کیے گئے، جلوس میں وکلاء صحافی دانشور، انسانی حقوق کی علمبرادار تنظیموں کے کارکن، عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیوں کے افراد شامل تھے۔
آدھے راستے سے پیپلز پارٹی کے کارکن مخدوم شاہ محمود قریشی اور قاسم ضیاء کی سربراہی میں اس جلوس میں شامل ہوگئے۔ دوران جلوس عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناچ اور گانا ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس سلسلے میں پابندیاں لگائے۔
عاصمہ جہانگیرکے خطاب کے بعد جلوس پرامن طور پر منتشر ہوگیا۔ عاصمہ جہانگیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاء نے اپنے کپڑوں کے نیچے جرنیل کی وردی پہن رکھی ہے اور وردی والے ملاء کو استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان کے نام دیں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ جامعہ حفصہ کے لوگوں کو وارننگ دیتی ہیں کہ باز آجائیں ورنہ وہ ان کا راستہ روکتی رہیں گی ۔
اسلام آباد میں خواتین کا مظاہرہ
اسلام آباد میں ہمارے نمائندے اشتیاق احمد کے مطابق خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور راولپنڈی اور اسلام آباد کی رہائشی خواتین نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ انتظامیہ اور ادارے سے منسلک طالبعلموں اور طالبات کے خلاف ایک مظاہرہ کیا۔
جمعرات کے روز اس مظاہرے میں بیسیوں خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد بھی اس مظاہرے میں شریک تھے۔ مظاہرہ ڈی چوک سے شروع ہو کر پارلیمنٹ کے سامنے جا کر ختم ہوگیا۔
مظاہرے کے دوران خواتین نے لال مسجد انتظامیہ، مولوی ازم اور دہشت گردی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔
اسلام آباد کی ایک رہائشی صوفیہ کا کہنا تھا وہ اس مظاہرے میں اس لیے شرکت کر رہی ہیں تاکہ وہ اسلام آباد کے دیگر لوگوں میں یہ بیداری پیدا کر سکیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ جس طرح اسلام نافذ کر چاہتی ہے، اسلام آباد کے شہریوں کو یہ منظور نہیں ہے۔
مظاہرے میں اسلام آباد سے ہی شرکت کرنے والی تحسین سید کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایک مسجد کے لوگ جس طرح قانون اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور جس طرح سے شہریوں کو اُٹھا رہے ہیں وہ ایسی کارروائیاں کرنے والوں کے خلاف یہاں اکٹھی ہوئی ہیں۔
مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت خاموش نہ رہے اور ہر صورت میں قانون کی عمل داری کو یقینی بنائے۔
پشاور میں بھی مظاہرہ
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں نےجامعہ حفصہ کی انتظامیہ اور طالبات کے خلاف ایک ریلی نکالی اور ان کے حالیہ اقدامات کو ملک میں مذہبی تنگ نظری کو فروغ دینے سے تعبیر کیا ہے۔
جمعرات کو ویمن ایکشن فورم کے زیر انتظام نکالی گئی اس ریلی میں پانچ غیرسرکاری تنظیموں کے علاوہ قوم پرست جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔
پشاور پریس کلب کے سامنے نکالی گئی ریلی میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی جنہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر مختلف نعرے درج تھے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان میں مٹھی بھرمذہبی انتہا پسند قوتوں نے ملک میں موجود اعتدال پسندوں کی ایک بڑی تعداد کو ذاتی مفادات کی خاطر یرغمال بنایا ہوا ہے۔
مظاہرے میں موجود غیرسرکاری تنظیم ٹرائیبل ویمن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر بیگم جان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والی برقعہ پوش خواتین ڈنڈے اٹھاکر کیسے سرعام سڑکوں پر نکل آتی ہیں۔
انہوں نے کہا: ’بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں سنا کہ چرچ کی خواتین ڈنڈے اٹھاکر کر سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔‘
مقررین نے کہا کہ جامعہ حفصہ کی انتظامیہ شہری حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے اور خواتین کو گاڑی نہ چلانے کی دھمکی اور سی ڈیز شاپ کو نذرآتش کرنا اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔
مظاہرین نےعوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں مذہبی عدم برداشت اور انتہاپسندی کو فروغ دینے والی قوتوں کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھائیں۔
کراچ میں خواتین کی ریلی
خاموش پسند اکثریت کمزور نہیں |
اس ریلی میں حقوق انسانی اور حقوق نسوان تنظیموں کے ساتھ طالبات اور سٹی نائب ناظمہ نسرین جلیل نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین مذہبی انتہا پسندی نامنظور، عورت زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے اور انہوں نے ہاتھوں میں سیفرون رنگ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
وومین ایکشن کمیٹی کی رہنما انیس ہارون نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خاموش پسند اکثریت کمزور نہیں ہے وہ امن پسند ہے کیونہ وہ پاکستان کو اصلاح پسند دیکھنا چاہتی ہے۔’مگر ہم کب تک خاموش رہیں گے اور کب تک گھروں میں بیٹھے کر اپنا دفاع کریں گے؟‘
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ باہر نکلیں اور حکومت کو یہ بتائیں
کہ جو مدرسہ حفصہ اور لال مسجد میں ہورہا ہے وہ انہیں قبول نہیں ہے اور پاکستان کی اکثریت اعتدال پسند ہے۔ انیس ہارون کے مطابق پاکستان کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ یہاں مذہبی رواداری اور امن عورتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں۔