Thursday, 19 April, 2007, 14:31 GMT 19:31 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کی اقتصادیات میں زراعت اہم ترین شعبہ ہے لیکن صوبے کے زمیندار پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔
محکمہ زراعت کے حکام کے مطابق صوبے میں کوئی ایک کروڑ ایکڑ قابل کاشت اراضی بے آب پڑی ہے اور کوئی بارہ ملین ایکڑ فٹ پانی ہر سال ضائع ہوجاتا ہے۔
بلوچستان میں سات سالہ خشک سالی کے بعد اب یہ دوسرا سال ہے کہ مارچ اپریل کے مہینوں میں بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے جس سے ٹیوب ویل خاموش ہو جاتے ہیں۔ صوبے کے انتیس اضلاع میں ستائیس اضلاع کی زراعت کا انحصار ٹیوب ویلز پر ہے۔
زمیندار اور کسان بجلی کی بندش کی وجہ سے اس سال پھر احتجاج کر رہے ہیں۔ زمینداروں نے کہا کہ انہوں نے لاکھوں روپے لگائے ہیں لیکن اب انہیں نقصان ہے اور بجلی کے کھمبوں پر دھماکوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں حکومت خود ملوث ہو سکتی ہے کیونکہ پچھلے سال انہی دنوں میں کھمبے اڑاے گئے اور اب پھر اڑائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے ان الزامات کو رد کیا ہے۔
![]() | |
| صوبے میں 70 سے 72 اقسام کی فصلیں اور پھل سال بھر کاشت کیے جاتے ہیں |
زمیندار ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمان بازئی نے کہا کہ صوبے میں ہر سال چار ملین ٹن سیب اور تین ملین ٹن کھجور کے علاوہ انگور چیری اور دیگر پھل پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اس وقت سیب اور انگور کے علاوہ گندم، پیاز اور زیرے کی فصل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام اجناس کے باغات اور فصلوں پر ایک اندازے کے مطابق ایک سو ارب روپے سے زیادہ کے نقصان کا اندیشہ ہے۔
![]() | |
| اس وقت صوبے میں صرف پانچ فیصد رقبہ زیر کاشت ہے |
غلام رسول بلوچ نے بتایا کہ صوبے میں سیب کھجور اور انگور کے علاوہ پھولوں کی کاشت کے مواقع زیادہ ہیں اور مختلف قسم کے پھول کاشت کرکے دنیا بھر میں بھیجے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل میں بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کپاس کاشت کی جائے گی۔ صوبے میں انیس سو چورانوے میں کپاس کی کاشت ضلع نصیر آباد میں دو سو ایکڑ پر کی جاتی تھی اور اس وقت انیس اضلاع میں کوئی ایک لاکھ ایکڑ زمین پر کپاس کاشت کی جا رہی ہے اور اس وقت کچی کینال کا انتظار ہے جس سے کوئی سات لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو سکے گی جہاں کپاس اہم فصل ہو گی۔