http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 18 April, 2007, 21:07 GMT 02:07 PST

علی سلمان
بی بی سی لاہور

رعائتیں ختم کرنے پر زور

زرعی اجناس برآمد کرنے والے دنیا کے انیس چھوٹے بڑے ممالک کے اتحاد کینز گروپ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے زرعی اجناس کی پیداوار اور برآمدات پر دی جانے والی رعائتوں میں خاطر خواہ کمی کی فوری طورپرحتمی تاریخ مقرر کی جائے اورعالمی منڈی تک مساویانہ رسائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں

یہ بات کینز گروپ کے تین روزہ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ کی صورت میں سامنے آئی ہے ۔
تین روزہ کانفرنس میں پچیس ممالک کے ڈیڑھ سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی جن میں کینز گروپ میں شامل انیس ممالک کے وزرائے تجارت بھی شامل ہیں۔

مشترکہ اعلامیہ ایک پریس کانفرنس میں جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی تک مساوی رسائی کے لیے ضروری ہوگا کہ محصولات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی جائے لیکن ساتھ ہی ساتھ ترقی پذیر ممالک میں مقامی پیداوار کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی نظام بھی تشکیل دیا جائے۔

آج کے اجلاس میں ڈاکٹر منظور احمد بھی شریک تھے جو جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لیے پاکستان کے مندوب ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ کپاس کی پیداوار پر دی جانے والی امدادی رقوم میں مختصر مدت میں بڑی کٹوتی کی جائے جس کا پاکستانی حکام کے مطابق براہ راست فائدہ پاکستان کو پہنچے گا۔

لیکن پاکستان میں کاشتکاروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے عہدیداروں نے آج شام ایک پریس کانفرنس میں کینز گروپ کے مشترکہ اعلامیہ کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومتی سبسڈی ختم کرنے سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو ناقابل تلافی مالی نقصان پہنچے گا۔

مشترکہ اعلامیہ میں بعض خاص اشیاء پر مقامی ضروت کے تحت سبسڈی اور دیگر پابندیوں کو برقرار رکھنے کی حمائت کی گئی لیکن اس جملے کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا نوٹ یہ بھی درج ہے کہ کینیڈا نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔اجلاس کے شرکاءنے امریکہ اور جاپان پر زور دیا کہ زرعی اصلاحات کے لیے انہیں فوری طور پر کردار ادا کرنا ہوگا اور اگر اس کام میں تاخیر ہوئی تو ڈبلیو ٹی او کے معاہدے کو عملی جامہ پہنایا جانا نا ممکن ہوجائے گا۔

پاکستان کے وزیر تجارت ہمایوں اختر خان کا کہنا ہے کہ انہیں اجلاس کے نتیجہ خیز ہونے اور اس کا پاکستان کو فائدہ پہنچنے کی بڑی امید ہے۔

کینز گروپ کے رکن ممالک دنیا بھر کی ایک چوتھائی زرعی اجناس برآمد کرتے ہیں لیکن اس میں یورپی یونین چین انڈیا اور امریکہ جیسے بڑے ممالک شامل نہیں ہیں۔

کل رات لاہور کے حضوری باغ میں مندوبین کے اعزاز میں دیے گئے ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے بھی ترقی یافتہ ملکوں پر زور دیا کہ وہ تیسری دنیا کی مصنوعات کی عالمی منڈی تک رسائی آسان بنانے کے اقدامات کریں تاکہ غربت کا خاتمہ ہو جو صدر مشرف کے بقول انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے۔

دوسری طرف مبصرین کاکہنا ہے کہ تین روزہ اجلاس میں کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا جاسکا اور ان کے نزدیک یہ اجلاس تشتند گفتند وخاستند سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔