Wednesday, 18 April, 2007, 11:43 GMT 16:43 PST
اعجاز مہر، ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل نے معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی سماعت چوبیس اپریل تک ملتوی ہوگئی ہے۔
دوسری طرف غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق اس آئینی درخواست میں صدر جنرل پرویز مشرف کو فریق بنایا گیا ہے۔
جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر وکلا نے سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس سے عدالتی کام شدید متاثر ہوا۔
معطل چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے بدھ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف الزامات کی سماعت کا اختیار کونسل کو نہیں ہے بلکہ فل کورٹ مجاز فورم ہے۔
یہ بات چیف جسٹس کے وکلاء کے پینل کے ایک رکن منیر اے ملک نے بدھ کو سماعت ختم ہونے کے بعد صحافیوں کو بتائی۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کے چھ رکنی پینل میں شامل ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کونسل کی مزید کارروائی آگے چلانے سے پہلے تین ججوں کے متعصب ہونے کے بارے میں پہلے فیصلہ کرنے کے متعلق ان کی درخواست کونسل نے مسترد کردی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے اس مقدمے میں متعصب ہونے یا ذاتی مفاد وابستہ ہونے کے بارے میں جو اعتراضات کیے تھے وہ ابھی رد نہیں کیے۔ بلکہ ان کے مطابق متعصب ججوں کی شمولیت کے بارے میں مزید کارروائی سے پہلے فیصلہ کرنے کی درخواست رد کی گئی ہے۔
منیر اے ملک نے بتایا کہ جـوڈیشل کونسل نے کہا ہے کہ وہ تمام اعتراضات سننے کے بعد اس بارے میں اکٹھا فیصلہ دینا چاہتے ہیں اور دوران سماعت ایک معاملے پر وہ فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔
وکیل نے بتایا کہ ایک موقع پر جب معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل متعصب ججوں کے نقطے پر پہلے فیصلہ کرنے کے بارے میں دلائل دے رہے تھے تو جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس کو چھوڑیں آپ اللہ پر بھروسہ کریں تو وکیل صفائی نے کہا کہ ’اللہ پر تو بھروسہ ہے لیکن آپ کے اوپر نہیں ہے،۔
منیر اے ملک نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو سماعت کے دوران اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس لیے اگر وہ مناسب سمجھیں تو کارروائی کو آگے نہ چلائیں۔
جس پر ان کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ اس بارے میں اگر سپریم کورٹ نے حکم دیا تو وہ سماعت روک سکتے ہیں۔