Tuesday, 17 April, 2007, 04:03 GMT 09:03 PST
امداد علی سومرو
لاہور
ملتان سنٹرل جیل میں چار سگے بھائیوں کو اپنے تین چچاؤں کو ان کے خاندان کے تیرہ افراد سمیت قتل کرنے کے جرم میں بیک وقت پھانسی لگا دی گئی ہے۔
قتل کی اس واردات میں ہدایت اللہ اور ان کے تینوں بھائیوں کے خاندان کا ایک بھی فرد زندہ نہ بچ سکا جس کی وجہ سے علاقہ کے ایک معزز رانا شبیر کی فریاد پر پولیس نے تیرہ افراد کےقتل کی اس واردات کا پرچہ مقدمہ نمبر 1999/106 درج کیا۔ مقتول خاندان کو اہلیانِ علاقہ نے ان کی اس زمین میں دفن کیا جو اس سنگین واردات کی وجہ بنی تھی۔
اللہ دتہ اور ان کے تین بھائیوں میں 173 کنال موروثی زمین کا تنازعہ تھا۔ زمین کی تقسیم کے بعد اللہ دتہ اور ان کے بیٹوں کو یہ رنج تھا ہدایت اللہ نے باقی دو بھائیوں سے مل کر وہ چھ کنال رقبہ جو سب سے زیادہ قیمتی ہے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور انہیں بنجر زمین ملی۔
مجرمان نے صدر مملکت کو رحم کی ایک اور اپیل کرتے ہوئے مقتولین کے ورثا سے صلح کے لیے وقت مانگا جس پرصدر مملکت نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روکتے ہوئے سیشن جج کے سامنے صلح کرنے کے لیے مجرمان کو مہلت دی۔ مقتولین کا پورا خاندان قتل ہو جانے کی وجہ سے وہ عدالت میں صلح کے لیے کسی کو بھی پیش نہ کرسکے جس کے بعد دوبارہ ان کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں سترہ اپریل دوہزار سات کو پھانسی لگانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے جس پر عملدرآمد کرنے کیلئے لاہورسےجلاد جان مسیح کو ملتان بلایا گیا ۔
منگل وار کی علی الاصبح ساڑھے پانچ بجے چاروں بھائیوں کو بیک وقت پھانسی دے دی گئی۔ ملتان جیل کے پھانسی گھاٹ میں بیک وقت چھ لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔
مجرمان سے سوموار کو خاندان کے پندرہ افراد نے آخری ملاقات کی۔ جیل حکام کے مطابق چاروں بھائیوں نے وصیت میں اپنے لواحقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کبھی بھی کسی سے بدلہ نہ لیں اور نہ ہی تیش میں آئیں۔