Sunday, 15 April, 2007, 14:47 GMT 19:47 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ معطل چیف جسٹس افتخارچودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس ٹرائل نہیں بلکہ ایک تحقیقاتی ریفرنس ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل سفارشات مرتب کرنے کے بعد اسے مزید کارروائی کے لیےصدر جنرل پرویز مشرف کے پاس بھیجھے گی۔
یہ بات انہوں نے اتوار کو وزیراعظم ہاؤس میں حکمراں مسلم لیگ(ق) کے مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں کہی۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ اجلاس میں معطل چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس، جامعہ حفصہ اور ملک کی خارجہ امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور پاکستان بھر سے آئے ہوئے مرکزی کمیٹی کے دو سو ارکین کو اس سلسلے میں حکومتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
شوکت عزیز نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں حکومتی وکیل وسیم سجاد نے مرکزی کمیٹی کے ارکین کو صدارتی ریفرنس سے متعلق اب تک ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا جب کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے لائر فورم کے صدر عالمگیر خان نے کمیٹی کو بتایا کہ صدارتی ریفرنس قانون اور آئین کے عین مطابق ہے۔ وزیراعظم نے مزید بات چیت سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت کے زیر سماعت ہے۔
جامعہ سے مذاکرات کا اختیار |
اس موقع پر وزیراعظم شوکت عزیزکا کہناتھا کہ گزشہ روز اسلام آباد کے علاقے بارہ کوہ میں سی ڈیز کی دکانوں میں آگ لگانے والے افراد کےخلاف کیس درج کرنے کے بعد مزید کارروائی جاری ہے۔
وزیراعظم شوکت عزیز نے سارک کانفرنس، بھارتی وزیراعظم ، روس کے وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے حوالے سےہونے والی بات چیت اور پیش رفت سے اجلاس کوآگاہ کیا۔
سمجھوتہ ایکپریس کی تحقیقات |
پریس بریفنگ کے دوران مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شوکت عزیزنے کہا کہ حکومت نے کسی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی ہے البتہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہےاور مناسب وقت پر اس کا اعلان کر دیاجائے گا۔
انہوں نے اشارتاً کہا کہ حقوق نسواں بل کے موقع پر اپوزیشن کی جماعتوں کا حکومت کا ساتھ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ان کے ساتھ مستقل رابطے ہیں۔
مسلم لیگ کے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں صوبہ پنجاب اورسندھ کے وزراء اعلی کے علاوہ وفاقی وزراہ اور قومی اسمبلی و سینٹ کے اراکین نے شرکت کی۔