Sunday, 15 April, 2007, 18:28 GMT 23:28 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد
پاکستان کے غیرفعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ اگر اختیارات ایک جگہ مرکوز ہوجائیں تو اس سے آمریت پیدا ہوتی ہے، اس لئے اختیارات کی تقسیم ضروری ہے۔
حیدرآباد میں اتوار کو وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، اس لئے انصاف فراہم کرنے والے اداروں کا آزاد ہونا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اتحاد برقرار رکھیں اور میر جعفر اور میرصادق جیسے غداروں کواپنی صفوں میں شامل ہونے نہ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ بیس ماہ میں حیدرآباد میں منو بھیل، مسمات سوڈھی سمیت چھ ہزار مقدمات کا ازخود نوٹیس لیا اور سماج کے مختلف طبقات کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی۔
اس سے قبل پاکستان کے’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار چودھری سکھر سے بذریعہ سڑک حیدرآباد پہنچے تھے۔
سکھر سے حیدرآباد کے راستے میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عام افراد نے قومی شاہراہ کے دونوں اطراف کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا اور ان پر پھول نچھاور کیے۔
حیدرآباد میں ہونے والے وکلاء کنوینشن میں شہر اور اس کے آس پاس کے اضلاع کے وکلاء، سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے جج شریک تھے ۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کو کنوینشن میں شرکت کی دعوت حیدر آباد بار نے دی تھی۔
نو مارچ کو ’غیر فعال‘ بنائے جانے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کا یہ پہلا دورہ سندھ تھا اور کسی بار ایسوسی ایشن سے یہ ان کا دوسرا خطاب تھا۔
اس سے پہلے انہوں نے راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا تھا۔
حیدرآباد میں وکلاء سے خطاب کرنے کے بعد جسٹس افتخار محمد کراچی ایئرپورٹ پہنچے جہاں سے وہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
کراچی بار کو خطاب کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک جب کہیں گے وہ کراچی پہنچ جائیں گے۔
ان کے ساتھ منیر ملک بھی موجود تھے، جنہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اسلام آباد جانے کی کوشش کی مگر سیکورٹی حکام نے انہیں روک دیا تاہم وکلاء رہنماؤں کے احتجاج کے بعد انہیں جسٹس افتخار کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی۔