Saturday, 14 April, 2007, 06:15 GMT 11:15 PST
احمد رضا شیخ
کراچی
کراچی سے بھارت کے شہر مونا باؤ تک چلنے والی تھر ایکسپریس رینجرز اور مسافروں کے مابین ایک تنازعے کے سبب کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاخیر سے روانہ ہوئی۔
پاکستان ریلوے کراچی کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ میر محمد خاص خیلی نے بتایا کہ جمعہ کی شب تھر ایکسپریس کی فرسٹ کلاس سلیپر کی بوگی میں ایک ہی خاندان کے پندرہ افراد کی نشستیں مخصوص تھیں جن پر رینجرز کے اہلکاروں نے قبضہ کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اہلکاروں کو کافی سمجھایا لیکن انہوں نے کہا کہ ہم محافظ ہیں ہم نشستیں خالی نہیں کریں گے حالانکہ انہوں نے ریزرویشن بھی نہیں کرائی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ بعد میں ان مسافروں کو اکانومی کلاس کی بوگی میں نشستیں فراہم کی گئیں اور ٹرین کو روانہ کیا گیا۔
میر محمد نے کہا کہ انہوں نے رینجرز کے اعلی حکام کو اس واقعے کی شکایت کی ہے۔
ریلوے افسر کے مطابق تھر ایکسپریس آٹھ بوگیوں پر مشتمل ہوتی ہے جن میں دو فرسٹ کلاس سلیپر، چار اکانومی کلاس کے ڈبے اور دو بوگیاں ٹرین کے عملے کے لئے ہوتی ہیں۔
انہون نے بتایا کہ فرسٹ کلاس سلیپر کی ایک بوگی پہلی ہی رینجرز کے پاس ہے اور اب انہوں نے دوسری بوگی بھی اپنے استعمال میں لے لی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جس خاندان کے افراد کی نشستوں پر قبضہ کیا گیا تھا ان کے سربراہ مرزا اسماعیل بیگ ہیں جو امریکی شہریت کے حامل ہیں۔
واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں اس سال فروری میں بھارت میں ہونے والے دھماکوں میں چھیاسٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد تھر ایکسپریس میں حفاظتی انتظامات کے لئے رینجرز کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے جو زیرو پوائنٹ تک اس میں سفر کرتے ہیں۔