Friday, 13 April, 2007, 16:19 GMT 21:19 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
متحدہ عرب امارات کی کمپنی ہاربر ریسورس سینٹر اور حکومت بلوچستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت کمپنی بلوچستان کےساحلی شہرگوادر میں تین اعشاریہ دو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گوادر ریسورس سینٹر قائم کرے گی۔
جمعہ کو اسلام باد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہاربر ریسورس سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل شیخ نیحان بن زاہد النیحان نے کہا کہ گوادر ریسورس سینٹر کا مقصد نہ صرف پاکستان میں بلکہ خلیج کے تمام ممالک کو تیل اور گیس کے شعبے میں لاجسٹک تعاون کے علاوہ دیگر ٹیکنیکل سروسز فراہم کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دنیا میں تیل اور گیس کے شعبے میں خدمات انجام دینےکا پانچواں بڑا سینٹر ہوگا جو دوہزار چودہ تک مکمل ہو جائے گا۔
گوادر ریسورس سینٹر کے متعلق متحدہ عرب امارات کی کمپنی ہاربر ریسورس سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمر فاروق نے بتایا کہ اس پروجیکٹ سے دس ہزار افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ گوادر اور پسنی کے درمیان پچاس ہزار آبادی پر مشتمل توانائی کا ایک متبادل شہر بسایا جائے گا جہاں پرشاپنگ مال، ہوٹل، پارک اور ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
شیخ عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے دیہاتی علاقوں میں ہوا اورشمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کے حوالے سے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے پاکستان میں انڈسٹری لگانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
بلوچستان میں گوادر پورٹ سے متعلق بلوچ قوم پرستوں کے خدشات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ہاربر ریسورس سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل شیخ نیحان بن زاہد النیحان نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلے میں انہیں ضمانت دی ہے اور وہ مکمل طور پر مطمئن ہیں۔