Thursday, 12 April, 2007, 04:40 GMT 09:40 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، صدہ
پاکستان کے قبائلی علاقے لوئر کرم کے صدرمقام صدہ میں فوج نےعارضی جنگ بندی کرا دی ہے تاہم علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہے۔
صدہ اور بالش خیل کے علاقوں میں منگل کی رات فریقین کے مابین شدید لڑائی ہوئی جس میں مقامی لوگوں کے مطابق دونوں جانب سے بیس کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔
ٹل پارچنار سڑک بند ہونے کی وجہ سے صدہ جانے والی تمام ٹریفک تورہ آوڑی کے راستے جا رہی ہے۔
صدہ سے ایمبولیس اور نجی گاڑیوں میں لاشیں اور زخمیوں کو لے کر ہنگو ، کوہاٹ اور پشاور لے جاتی نظر آتی ہیں۔
صدہ پہنچے والے ہر شخص کو بارود کی بو محسوس ہوتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں مختلف جگہوں پر بھاری اسلحے کے استعمال سے آگ لگی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ لوگ صدہ ہسپتال کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں جو زخمیوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔
بازار میں موجود ایک دوکاندار نے بتایا کہ مارٹر کا گولہ اس کے دوکان پر آکرگرا ہے جس سے وہاں پر موجود تمام سامان خاکستر ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑائی میں لوگوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ دوکانداروں کو معاوضہ دیں۔
مقامی لوگوں میں اس بات پرشدید نارضگی پائی جاتی ہے کہ حکومت نے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے کےلیے فوجی کاروائی میں دیر کیوں کی ہے۔
کئی لوگوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت پہلے ہی دن یہ کاروائی کرتی تواتنے جانوں کا ضیاع نہ ہوتا۔