Wednesday, 11 April, 2007, 07:06 GMT 12:06 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، صدہ
پاکستان کے قبائلی علاقے لوئر کرم کے صدر مقام صدہ میں حکام بدھ کو فوج کی مدد سے عارضی جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ تاہم پارا چنار میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔
ہنگو سے صدہ تک تمام راستے ایمبولینسیں اور نجی گاڑیاں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں لے جاتے دکھائی دیئے۔ مختلف مقامات پر لوگ گاڑیاں روک کر ان میں سوار افراد کی تلاشی بھی لیتے رہے ہیں۔
صدہ میں ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے بعد عمل میں آئی جس میں چار افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔
تقریبا پندرہ ہزار مکانات پر مشتمل شہر میں کشیدگی بدستور موجود ہے۔
تاہم کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں بدھ کو مسلسل پانچویں روز بھی کرفیو بغیر کسی وقفے کے جاری ہے تاہم شہر کے مضافات اور دور دیہات میں جھڑپوں میں کمی کی اطلاعات ہیں۔
ادھر حکومت کی کوششوں سے جنگ بندی کے لیے ایک چالیس رکنی امن جرگہ ہنگو سے پارا چنار روانہ ہوا ہے۔ اس جرگے میں سنی اور شیعہ مسالک کے بیس بیس علما اور عمائدین شامل ہیں۔
جھڑپوں میں کمی کی وجہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ نہ روکنے والوں کے مورچوں پر گولہ باری اور اُس طرف پیش قدمی ہے۔ تاہم علی زئی کے علاقے میں کل رات شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
کرفیو کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اشیاء خوردو نوش کی کمی کے علاوہ کرفیو کی وجہ سے زخمیوں کا علاج بھی ممکن نہیں۔ شہر کو بجلی کی ترسیل بھی منقطع ہے۔
سرکاری ذرائع اب تک تیس افراد کی ہلاک جبکہ ساٹھ سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم مقامی لوگوں کے مطابق یہ تعداد پچاس تک ہے۔ یہ ذرائع زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔
پولیٹکل ایجنٹ کرم صاحبزادہ انیس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق پینتیس افراد ہلاک جبکہ تہتر زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشرا اور مالی خیل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد جنگ بند ہوگئی ہے۔
صدہ اور بالش خیل میں شدید جھڑپوں کی خبریں ہیں جن میں مقامی ذرائع پندرہ سے بیس مزید افراد کی ہلاکت کا بتا رہے ہیں۔ ان میں چند زخمی ہنگو بھی لائے گئے ہیں۔