Wednesday, 11 April, 2007, 09:53 GMT 14:53 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں دو مذہبی گروہوں میں تصادم کے بعد کشیدگی برقرار ہے جبکہ پولیس نے آٹھ سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔
علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ ساری رات بھر جاری رہا اور مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل اور چار موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کردیا۔
کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کو آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ ہنگامہ آرائی کا مقدمہ دائر کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کو سیل نہیں کیا گیا ہے۔
علاقے میں اہلحدیث مسلک کی مسجد سے مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ کے رہنما یوسف قصوری کی تقریر پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔وہ متحدہ مجلس عمل سندھ کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔
تحفظِ حقوق اہلحدیث کونسل کے جنرل سیکرٹری انس عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یوسف قصوری اس مسجد میں گزشتہ بیس سال سے مفتی ہیں اور وہ وہاں جمعے کا خطبہ اور درس دیتے ہیں۔
![]() | |
| مسجد کے باہر پولیس کی دو بکتر بند گاڑیاں کھڑی ہیں |
انس عباسی کے مطابق یہ حملہ پہلے سے طے شدہ تھا اگر وہ کوئی درس نہ دیتے تو بھی حملہ کرنے کی کوشش کی جاتی۔ ان کے مطابق انہوں نے پولیس اور رینجرز کو ٹیلی فون کیا کہ مولانا کی جان خطرے میں ہے اور انہیں وہاں سے نکالا جائے۔ رات کو ڈیڑھ دو بجے پولیس نے انہیں بکتر بند گاڑی کے ذریعے باہر نکالا اور ان ہی کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انس عباسی کا کہنا تھا کہ عشاء کی نماز پڑھنے جب لوگوں مسجد پہنچے تو ڈیڑھ سو افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ اس دوران ایک فائر ہوا۔ پولیس والے بھاگ گئے جبکہ مشتعل افراد ٹولیوں میں آ رہے تھے مگر پولیس انہیں روک نہیں رہی تھی بلکہ خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔
انس عباسی کا کہنا تھا کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مسجد کے اندر سے کسی نے جان بچانے کے لیے فائرنگ کی ہو کیونکہ جب آدمی مر رہا ہو تو سب کچھ جائز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ مسجد میں موجود تھے انہیں رات کو تین بجے بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے باہر نکالاگیا اور پولیس نے انہیں رہا کرنے سے انکار کردیا۔
سنی تحریک کے رہنما شکیل قادری کا کہنا تھا کہ جامع مسجد اہل حدیث سے اہل محلہ کو اکثر یہ شکایت ہوتی تھی کہ اس مسجد سے اہلِ سنت و الجماعت کے خلاف بات کی جاتی ہے۔
![]() |
انہوں نے بتایا کہ لائنز ایریا میں تیس سے زائد مساجد ہیں جن کے علماء اور خطیبوں نے ایک اجلاس میں یہ طے کیاہے کہ احتجاج کیا جائے گا جس میں یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ اس مسجد کو سیل کیا جائے۔
شکیل قادری کے مطابق گزشتہ شب جب لوگ احتجاج کرتے ہوئے مسجد کے قریب پہنچے تو اندر سے انہوں نے فائرنگ شروع کردی جس میں دو تین لوگ زخمی ہوگئے۔ اس پر لوگ مزید مشتعل ہوگئے اور ہزاروں کا مجمع جمع ہوگیا۔
لوگوں کا یہ مطالبہ تھا کہ مسجد کے اندر جو لوگ موجود ہیں انہیں نکالا جائے مگر وہاں جو پولیس موجود تھی فرار ہوگئی۔ ان کے مطابق رات کو تین بجے تک کشیدگی چلتی رہی جس دوران پولیس نے شیلنگ بھی کی اور مسجد سے فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ آخر پولیس مسجد کے اندر سے لوگوں کو نکال کر لے گئی۔