Tuesday, 10 April, 2007, 08:58 GMT 13:58 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالت عظمٰی نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت وزارت داخلہ کی درخواست پر بیس اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود لاپتہ افراد کے رشتہ دار، ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ محمد ارشاد کی طرف سے وزارت داخلہ کی مزید مہلت کی درخواست پیش کیئے جانے کا سن کر رو پڑے اور شور مچانا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تاخیری حربوں کا کافی عرصے سے شکار ہیں۔
لواحقین نے عدالت سے ان افراد سے ملاقات کی درخواست بھی کی جن کے بارے میں حکومت کا کہنا تھا کہ ان کا پتہ مل چکا ہے۔ تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ وہ پہلے تفصیلی جواب کا انتظار کرے گی جس کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے عدالت کے سامنے اس مقدمے میں فریق بننے کے لیئے درخواست دی تو عدالت نے انہیں یہ دفتر میں پیش کرنے کے لیئے کہا۔ تاہم انہوں نے بعد میں اپنی درخواست عدالت کے دفتر میں جمع کر دی۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ اس نے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی پیش کردہ فہرستوں کے مطابق ان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت اس تمام معملے پر تفصیلی نظر ڈال رہی ہے۔
عدالت نے اس مقدمے میں آخری سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو متعلقہ وزارتوں سے جواب لے کر دائر کرنے کے لیے کہا تھا۔
اس مقدمے کی آئندہ سماعت اب بیس اپریل کو ہوگی۔
پاکستان میں لاپتہ افراد کا معملہ مشرف حکومت پر تنقید کی ایک بڑی وجہ بن گیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے آج کل صدر جنرل پرویز مشرف ہر جسلہ عام میں اس موضوع پر حکومت کا موقف واضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔