Tuesday, 10 April, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات میں زخمی ہونے والے تین افراد نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طورپر جاری جنگ بند نہیں کی تو علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہے۔
ان زخمیوں میں پارہ چنار کے ایک رہائشی رئیس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صدہ سب ڈویژن کے علاقوں میں فریقین کے مابین شدید لڑائی جاری ہے جس میں اب تک چالیس سے لیکر پینتالیس لوگ ہلاک ہوچکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ’میں پارہ چنار جارہا تھا کہ راستے کی بندش کے باعث مجھے صدہ میں رکنا پڑا۔ رات کو میں ایک گھر میں مہمان تھا کہ اچانک ایک مارٹر کاگولہ اس گھر پر آکرگرا جس میں ہمارے ساتھ موجود چھ چھ سال کے دو بچے موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ میرے سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔‘
’ہسپتالوں میں بھی برا حال ہے۔ صدہ ہسپتال میں کوئی اہلکار موجود نہیں وہاں بچوں اور خواتین زخمیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے کسی کا ہاتھ نہیں، کسی کے سر سے خون بہہ رہا ہے، کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی ہے، ہر طرف چیخ وپکار ہے۔‘
رئیس خان نے بتایا کہ لڑائی میں جس طرح بھاری ہتھیار استعمال ہورہے ہیں اگر یہ کچھ دن اور جاری رہے تو علاقے میں بڑا خون خرابہ ہوسکتا ہے اور کئی گاؤں کے تو مکمل طورپر تباہ ہونے کا خطرہ ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں زیرعلاج ایک زخمی ممتاز خان نے بتایا کہ ’میں گھر جارہا تھا کہ راستے میں صدہ کے مقام پر مارٹر کا گولہ لگنے سے میری دونوں ٹانگیں زخمی ہوگئیں۔ پہلے دو دن میں صدہ ہسپتال میں پڑا رہا اور اس دوران میری ٹانگوں نے کام بالکل چھوڑ دیا تھا لیکن وہاں پر کوئی ڈاکٹر نہیں تھا تو مجبوراً پشاور آنا پڑا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ راستے میں بھی خطرہ ہے، ہر کوئی بھاری اسلحہ سے لیس ہے، لوگ گروہوں کی شکل میں میں سٹرک پر موجود ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سرجیکل بی وارڈ میں زیر علاج قیوم کا تعلق بھی صدہ سب ڈویژن سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں صدہ بازار میں موجود تھا میرے ساتھ اور بھی دوست تھے کہ اچانک کسی نامعلوم مقام سے ایک میزائل آیا جس کے گرنے سے وہاں موجود تین افراد ہلاک ہوگئے جبکہ میری ٹانگوں اور پیٹ میں زخم آئے۔‘
’پانچ دن سے جنگ ہورہی ہے لیکن کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ حکومت موجود ہے لیکن اس کی رٹ نہیں چل رہی ہے، فوج اور دیگر فورسزز تعینات ہیں لیکن بات اب ان کی ہاتھ سے بھی نکل گئی ہے۔ قیوم کا کہنا تھا کہ اگر یہ جھڑپیں مزید کچھ دن اور جاری رہیں تو بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات ہوسکتے ہیں۔‘