رفیعہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ جمعہ سے جاری فسادات اور اس کے بعد کرفیو کے نفاذ سے عام لوگوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہوگئی اور یوں لگتا ہے کہ عوام متحارب فرقہ ورانہ گروہوں، تشدد اور کرفیو کے یرغمال بن گئے ہیں۔
پارا چنار سے تعلق رکھنے والی خیر بی بی نے روتے ہوئے بتایا: ’میرا گھر اجڑ گیا ہے۔گھر میں پکانے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ میرا گھر والا جمعے کے دن آٹا لینے کے لیے نکلا اور پھر واپس نہیں آیا ۔میرا بچہ زخمی ہو گیا تھا، جب اس کو ہسپتال لے جانے کے لیے گھر سے نکلی تو فوج نے مجھ پر فائرنگ کر دی جس سے میری دونوں ٹانگیں زخمی ہو گئی ہیں۔ دو دن سے ہم نے کچھ نہیں پکایا۔‘
کھانے پینے اور علاج معالجے کی سہولیات کے نہ ہونے کی شکایات کے ساتھ یومیہ روزگار پر انحصار کرنے والے بھی روزگار نہ ملنے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔
راشن ختم |
کرفیو کے باعث مقامی آبادی کے لیئے بازار جا کر کچھ خریدنا نہات مشکل ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پارہ چنار کی ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’گیس نہیں ہے کہ کھانا پکایا جا سکے ۔آٹا اور گھی بھی اب ختم ہو رہا ہے۔ جن رشتہ داروں کے گھر فسادات میں جل چکے ہیں وہ بھی اب ہمارے گھر میں رہ رہے ہیں جس کی وجہ سے راشن وقت سے پہلے ختم ہو رہا ہے۔‘
پارا چنار کے عنایت اللہ نے کہا کہ کئی لوگ اب بھی گھروں کے منہدم ہونے کی وجہ سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں لیکن نہ تو ان کو نکالنے کا کوئی بندوبست ہے اور نہ ہی ہسپتال لےجانےکا۔
تعصب عروج پر |
پارا چنار میں حکومت اور قبائلی عمائدین کی کوششوں کے باجود حالات کشیدہ ہیں اور امن و امان کی جلد بحالی کے امکانات کافی کم نظرآ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر امن جلد بحال بھی ہوگیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ قتل اور فسادات کا کھیل کب اچانک شروع ہوجائے۔