Monday, 09 April, 2007, 23:02 GMT 04:02 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان پیپلز پارٹی کی جلاوطن چئر پرسن بے نظیر بھٹو نے مختلف اوقات میں مختلف سطح پر مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق کی ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ غیر رسمی رابطے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
بےنظیر بھٹو کا یہ بیان پاکستان کے ایک اردو ٹی وی چینل پر پیراور منگل کی درمیانی شب نشر ہوا تھا۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انٹرویو کے دوران بےنظیرنے بار بار پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ ان کی صدر مشرف سے آخری بار گفتگو کب ہوئی تھی، کہا کہ ’انہیں بالکل یاد نہیں کہ ان کی جنرل مشرف سے کب بات ہوئی تھی‘۔
بے نظیر کے ترجمان نے کہا کہ اس موقع پر بے نظیر نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے انہیں یہ یاد نہیں کہ ٹی وی کے کمپئرسے ان کی اس سے قبل کب بات ہوئی تھی‘۔
![]() | |
| ’مجھے بالکل یاد نہیں کہ جنرل مشرف سے کب بات ہوئی تھی‘ |
بے نظیر بھٹو نے اپنے انٹرویو میں صدر مشرف کے قریبی ساتھی اور سول سروسز کے افسر طارق عزیز سے رابطے کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔
بے نظیر سے جب پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف بغیر وردی کے انہیں منظور ہونگے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں کیونکہ ایک تو ان کے سامنے باضابطہ طور پر ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی اور دوسرا یہ کہ اس کا فیصلہ وہ نہیں بلکہ ان کی پارٹی کرے گی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی بےنظیر اور صدر مشرف کے درمیان کسی مفاہمت کی افواہیں گرم ہیں اور بعض حکومتی وزیرکھل کر پیپلز پارٹی سے حکومت کی بات چیت کا ذکر کررہے ہیں ان حالات میں بے نظیر کا کسی بھی سطح پر حکومت سے رابطوں کی تصدیق ملکی سیاست کی نئی کروٹ کا طرف اشارہ ہے۔
بے نظیر نے اپنے تازہ انٹرویو میں حکمران مسلم لیگ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حکومت ملکی معاملات میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
دوسری طرف منگل کو ہی معزول اورجلاوطن وزیراعظم میاں نواز شریف نے مسلم لیگ نواز کی مجلس عاملہ سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے وہ حکومت سے کسی بھی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے۔
میاں نواز شریف نےکہا ہے کہ انہوں نے بے نظیر اور مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے کہ جو بھی حکومت سے ڈیل کرے گا وہ رسوا ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ اپوزیشن کے دونوں بڑے دھڑوں کے سربراہوں نے ان کے خیالات سے اتفاق کیا ہے۔
میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں تجویز پیش کی ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل حکومت مخالف جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے۔