Monday, 09 April, 2007, 06:36 GMT 11:36 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ فوج نے علاقے میں جاری لڑائی روکنے کےلیے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فریقین کے مورچوں پر توپ کے گولے فائر کئے ہیں جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کو بھی تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مہلت کے باوجود پارہ چنار اور صدہ سب ڈویژن کے علاقوں میں جھڑپیں جاری رہیں جس کے بعد پانچ بجے کے قریب فوجی دستوں نے جنگ روکنے کےلیے کارروائی کرتے ہوئے فریقین کے مورچوں پر توپ کے گولے داغے جبکہ اس دوران گن شپ ہیلی کاپٹر بھی فضا میں گشت کرتے رہے۔
تاہم لڑائی وسیع علاقے میں پھیلنے کے باعث ابھی صورتحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔
پارہ چنار میں ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹرز نظر آرہے تھے جبکہ قریبی علاقوں سے وقفے وقفے سے بھاری گولوں کی فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھی۔
کرم ایجنسی سے سینیٹ کے رکن سینٹیر انجنئیر رشید احمد خان نے بتایا کہ چار بجے کے قریب مسجدوں اور لاوڈ سپیکروں کے ذریعے سے اعلانات کئے جارہے تھے جس میں لوگوں کو بتایا جارہا تھا کہ وہ فائرنگ بند کردیں ورنہ ان کو نشانہ بنایا جائے گا۔
پولٹیکل حکام کے مطابق جھڑپیں اپر اور لوئر کرم سب ڈویژن کے علاقوں پیواڑ، تری منگل، شلوازان، مقبل، بشارہ ، مالی خیل، ابراہیم زئی، فارش خیل، علی زئی، صدہ اور ماسو زئی کے پہاڑی علاقوں میں ہورہی ہے۔
کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے منگل کو موصول ہونے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ روز سے جاری جھڑپیں روکنے کےلئے مقامی انتظامیہ نے فوج اور نیم ملیشاء کے مزید دستے طلب کرلئے تھے جو اب ایجنسی کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ علی زئی کے علاقے میں منگل کی صبح فوج کی کئی گاڑیاں پہنچی ہیں جنہیں متاثرہ علاقوں میں بھیجا جارہا ہے۔
حکومت نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ بند نہ ہوئی تو قبائل کے مورچوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری طرف مذہبی جلوس کے مسئلہ پر جمعہ کو پارہ چنار میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات قریبی علاقوں میں پھیلنے کے بعد بدستور جاری ہیں جن میں فریقین ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کررہے ہیں۔
زخمیوں کی منتقلی میں دشواریاں |
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جھڑپوں کے باعث ٹل پارچنار روڈ مختلف علاقوں میں بند ہے جس کے باعث زخمیوں کو پشاور منتقل کرنے میں شدید مشکلات پیش آر ہی ہیں۔
پارہ چنار شہر میں کرفیو کے باعث لوگ گھروں کے اندر محبوس ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے ۔
کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں، ریٹائرڈ سرکاری افسران اور مختلف تنظیموں نے علاقے میں جاری مسلسل جھڑپوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر جوڈیشل انکوائری کی جائے۔