Sunday, 08 April, 2007, 04:56 GMT 09:56 PST
مختار آزاد
کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں پولی تھین سے تیار کردہ تھیلوں (شاپنگ بیگ) کی خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی سے اس صنعت سے وابستہ لگ بھگ پینتیس ہزار خاندانوں کی گزر بسر داؤ پر لگ گئی ہے۔
کاروباری حلقوں نے بھی اس پابندی سے کاروبار متاثر ہونے کی شکایات کی ہیں۔ ماحولیات کے حوالے سے نافذ اس پابندی پر عملدرآمد کے طریقے پربعـض ماہرینِ ماحولیات نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کراچی کی شہری حکومت اور صوبائی حکومتِ سندھ نے مارچ 2006ء کے ایک آرڈیننس کے تحت اس سال 15 مارچ سے پولی تھین تھیلوں اور تھیلیوں کی تیاری اور خرید وفروخت پر پرپابندی عائد کرتے ہوئے اس کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور سزائیں دینے کا حکم دیا تھا۔
کراچی شہری حکومت نے فیصلے کے نفاذ کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا تاہم فی الوقت چھاپہ مار اہلکار صرف پولی تھین تھیلوں کی ضبطی پر ہی اپنی توجہ مرکز کررہے ہیں۔
مذکورہ آرڈیننس کے تحت خلاف ورزی پر چھ ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانے تک کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
کراچی سمیت پورے ملک میں گزشتہ دو دہائیوں سے پولی تھین تھیلوں کا استعمال جاری ہے۔ دودھ، دہی سے لے کر سبزی ترکاری اور تیل گھی تک ہر چیز کی خریداری کے بعد دکاندار گاہک کو سامان دینے کے لیے ان تھیلوں کا استعمال کرتے ہیں۔
دو دہائیوں کا کارروبار |
ماحولیاتی امور کے ماہر رفیع الحق کا کہنا ہے کہ ’’پولی تھین تھیلے چونکہ گل سڑ کر ختم نہیں ہوپاتے، لہٰذا ان کے سبب شہر میں گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر جنم لے چکے ہیں۔
نیز ہلکی وزن کی یہ تھیلیاں ہوا سے اڑ کر بجلی کے تاروں میں اٹک جاتی ہیں، جس سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تھیلیاں سیوریج نالوں میں جمع ہو کر نکاسیِ گنداب میں رکاوٹ ڈال دیتی ہیں۔
اسی لیے نہ صرف بلدیاتی محکمے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن بلکہ ماہرینِ ماحولیات بھی کئی برسوں سے اس پر پابندی کا مطالبہ کررہے تھے۔
آل کراچی پولی تھین بیگز مینو فیکچررز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رکن محمد طاہر کا کہنا ہے کہ کراچی میں پولی تھین بیگز کی تیاری کاٹج انڈسٹری کے طور پرشہر کے مختلف علاقوں میں موجود تھی، تاہم حکومت کی جانب سے پابندی کے بعد اس کی تیاری اور فروخت بند کردی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق اس کاروبار سے پینتیس ہزار افراد وابستہ تھے جن کا اس پابندی کے بعد روزگار ختم ہوچکا ہے۔ اب ان ہزاروں خاندان کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔
![]() | |
| پابندی لگانے اور لگوانے والوں کے پاس اپنے جواز ہیں لیکن عادتیں بھی ایک مسئلہ ہیں |
یہی سلوک کارخانہ داروں کے ساتھ ہورہا ہے۔ جس کے سبب سیکڑوں کارخانے بند اور ان کے ہزاروں ملازمین بیروزگار ہوچکے ہیں۔
ماحولیاتی اقتصادیات کی ماہر صائمہ بیگ کا کہنا ہے ’ ماحولیات کے حوالے سے کسی قسم کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے سے قبل اس شعبے سے وابستہ افراد کی لیے متبادل روزگار کی فراہمی، تربیت اور سہولتیں دینا لازمی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ جس آرڈیننس کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے، اس کے تحت 30 میکرون سے زیادہ موٹائی والی تھیلیوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی کا جواز نہیں، لیکن اس بات کا تعین کرنے کے لیے ضروری آلات سے لیس تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہے۔
کس پابندی کا جواز نہیں؟ |
دکانداروں کے پاس اس کا متبادل کاغذ سے بنے تھیلے ہیں، جو سہولت اور قیمت کے مقابلے میں ذیادہ مہنگے ہیں، تاہم سب سے پہلے اس بات کا تعین کردیا جائے کہ کیا ہر قسم کے پولی تھین تھیلے ممنوع ہیں یا صرف 30 میکرون سے کم وزن والے۔
پابندی کے نفاذ کو یقینی بنانے پر معمور کراچی شہری حکومت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پولی تھین تھیلوں کی موٹائی کا تعین کرنے کے آلات نہیں ہیں۔ اس لیے ہر قسم کے تھیلوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
کورنگی صنعتی ایریا میں واقع ہوٹل مالک شبیر علی کا کہنا ہے کہ ان کے کھانوں کی روزانہ فروخت پندرہ تا بیس ہزار روپے ہے۔
ان کے خریداروں میں مختلف فیکٹری ملازمین ہیں جو یہاں سے کھانا منگواتے ہیں۔ پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی کے بعد اب ان کے پاس کھانا پارسل بنا کردینے کا کوئی متبادل نہیں۔
جس سے ان کی آمدنی آدھی رہ گئی ہے۔ اکثر گاہک اس لیے آرڈر کینسل کردیتے ہیں کہ ان کے پاس کھانا لے جانے کے لیے برتن وغیرہ نہیں ہوتے۔
لانڈھی صنعتی ایریا کے ہوٹل مالک زبیر خان کے مطابق ’’پولیس تین بار میرے ہوٹل پر پولی تھین تھیلیوں کے استعمال کے شبہ میں چھاپہ مارچکی ہے، لیکن اسے ناکامی ہوئی‘۔
شہریوں کی دشواری |
گلشنِ اقبال کے شہری کمال نذیر کا کہنا تھا ’میں روزانہ گھر جاتے ہوئے سودا سلف خرید کر لے جاتا تھا۔ مگر اب میں پہلے گھر جاتا ہوں اور وہاں سے تھیلا لے کر خریداری کے لیے نکلتا ہوں۔ جس سے میرا کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہلکی وزن کی تھیلیاں ماحولیات کے لیے خطرناک ہیں تو پھر زیادہ موٹائی والی تھیلیوں پر پابندی کیوں ہے‘۔