http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 April, 2007, 08:40 GMT 13:40 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’جھڑپیں بند نہ ہوئیں تو فوج استعمال کریں گے‘

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں تین روز سے جاری فرقہ وارانہ فسادات کا دائرہ اب اپر اور لوئر کرم کے علاقوں تک پھیل گیا ہے اور فریقین کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں اب تک چالیس سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ
پارہ چنار: فرقہ وارانہ تصادم میں آٹھ ہلاک

ادھر حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کرم ایجسنی کے دیہات میں قبائل کے درمیان جاری جھڑپیں بند نہ ہوئیں تو پھر ان کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ صاحبزادہ محمد انیس نے اتوار کو پارہ چنار سے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ صدر مقام پارہ چنار کے اطراف میں مختلف قبائل کے مابین شدید لڑائی جاری ہے جس کو روکنے کے لئے مقامی قبائلی جرگوں کی کوششیں جاری ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جرگوں کی ناکامی کی صورت میں علاقے میں امن وامان برقراد رکھنے کےلئے حکومت کو قبائل کے خلاف فوجی کاروائی کرنا پڑی گی ۔

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے اتوار کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کو مذہبی جلوس کے مسئلے پر شروع ہونے والی لڑائی اب قریبی دیہات تک پھیل گئی ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر مقام پارہ چنار میں کل دوپہر کے بعد سے فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے تاہم اپر اور لوئر کرم کے علاقوں پیواڑ، تری منگل، بالش خیل، صدہ، بشرہ، مالی خیل، کڑمان اور پارہ چمکنی میں فریقین کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی میں مارٹر گن ، میزائل اور راکٹ لانچرز کا آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے۔ سرکاری طورپر ان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد چالیس تک بتائی جارہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑائی کا دائرہ دیگر علاقوں تک پھیلنے کی بناء پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہنی زیادہ ہوسکتی ہے۔

پولیٹکل ایجنٹ نے کہا کہ اب تک کے فسادات میں پندرہ افراد ہلاک اور تریپن 53 زحمی ہوئے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ فریقین بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کررہے ہیں تواس صورت میں تو ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشتہ ہوسکتا ہے تو صاحبزادہ انیس الرحمان نے بتایا ’ میرے پاس جو تصدیق شدہ اعداد وشمار ہے وہ تو یہی ہیں اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں جو رپورٹیں آرہی ہے ان میں حقیقت نہیں ۔‘

ادھر صدر مقام پارہ چنار میں کل دوپہر کے بعد سے غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ ہے جبکہ کرفیو کی خلاف ورزی پر گولی مار دینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ بازار میں فوجی دستے گشت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور حالات مکمل طورپر انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ کوہاٹ سے لیکر پارہ چنار تک اس وسیع علاقے میں شیعہ اور سنی مسلمان آباد ہیں۔ اسی کی دہائی میں اس علاقے میں فرقہ واریت کی آگ بھڑک اٹھی تھی جس میں خیال ہے کہ اب تک ہزاروں کے تعداد میں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے تاحال اس مسلے کو مضبوط بنیادوں پر حل ہونے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔