http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 April, 2007, 02:19 GMT 07:19 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

بلوچستان میں اساتذہ کی تربیت

بلوچستان یونیورسٹی کے ایک سو چالیس اساتذہ کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ اساتذہ ایم اے کی تعلیم کے بعد آگے تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے۔

وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی بریگیڈیئر ریٹائرڈ احمد گل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یونیورسٹی کے کل اساتذہ کی تعداد تین سو پچہتر میں سے صرف پچہتر اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں اس لیے اب اساتذہ کو جی آر ای یعنی گریجوئیٹ ریکارڈ ایگزامینیشن اور نیشنل ٹیسٹنگ سسٹم ایگزامینیشن میں کامیابی کے لیے یونیورسٹی نے کراچی سے اساتذہ کو تعینات کیا ہے اور یونیورسٹی کراچی سے آئے ہوئے ماہرین کو فی کس دس ہزار روپے ادا کر رہی ہے۔

نئے اساتذہ تعینات کیے جائیں گے

بلوچستان میں خواتین یونیورسٹی

ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ اس فیصلے کے وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہاں اساتذہ خود نہیں پڑھ رہے تھے اور وہ صرف ایم اے کی تعلیم حاصل کر کے مطمئن تھے اور دوسرا یہ کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق بلوچستان
سینیٹ کا اجلاس اور کانوکیشن
 چھتیس سالہ تاریخ میں یونیورسٹی سینیٹ کا دوسرا اجلاس انیس اپریل کو ہو رہا ہے اور چھتیس سال میں صرف ایک کانووکیشن ہوا ہے اور اب دوسرے کے لیے انتظام ہو رہا ہے
 
یونیورسٹی کمزور ہے اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ یہاں اساتذہ کو تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ آگے دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں ایم فل یا پی ایچ ڈی کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی یونیورسٹیوں میں اس طرح نہیں ہوتا بلکہ اساتذہ خود پڑھتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔

وائس چانسلر بریگیڈیئر ریٹائرڈ احمد گل سے جب یہ پوچھا گیا کہ سیاسی جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ فوجی کو ہی یونیورسٹی کا سربراہ کیوں مقرر کیا گیا ہے کسی پروفیسر کو کیوں نہیں تو انہوں نے کہا کہ فوجی بہتر منتظم ہوتا ہے اور اس کا مختلف امور کا تجربہ ہوتا ہے جب کہ پروفیسر تو صرف ایک ہی مضمون کا ماہر ہوتا ہے۔

وائس چانسلر نے آج صحافیوں کو اس لیے بلایا تھا کہ یونیورسٹی کے حوالے سے طلباء تنظیموں کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جا رہے تھے کہ فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور طلبا کی نشستوں میں کمی کر دی گئی ہے لیکن وائس چانسلر نے بتایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔
نیا فرنیچر
ہاسٹلز میں پرانے فرنیچر کی جگہ نیا فرنیچر فراہم کیا جا رہا ہے

وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں بتایا اور معیار تعلیم بہتر کرنے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی چھتیس سالہ تاریخ میں یونیورسٹی سینیٹ کا دوسرا اجلاس انیس اپریل کو ہو رہا ہے جب کہ چھتیس سالوں میں صرف ایک کانووکیشن ہوا ہے اور ان کے دور میں دوسرا کانوکیشن ہوگا جس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہاسٹلز میں پرانے فرنیچر کی جگہ نیا فرنیچر فراہم کیا جا رہا ہے اور طلبا کو بہتر ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔