Saturday, 07 April, 2007, 02:58 GMT 07:58 PST
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل اور غیر ملکیوں کے درمیان تین روز کی لڑائی کے بعد جمعہ کو فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
فوجی جنوبی وزیرستان کے شہر شین ورسک میں داخل ہو گئے ہیں جہاں سے مقامی قبائل کے بقول شدید لڑائی کے بعد غیر ملکیوں کو وہاں سے بالاآخر نکال دیا گیا ہے۔
مقامی قبائلی لشکر اور غیر ملکیوں کےدرمیان ہونے والی لڑائی میں اطلاعات کے مطابق جمعے کو بیس افراد ہلاک ہو گئے۔
پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہےکہ علاقے میں فوج بھیج دی گئی ہے لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فوج لڑائی میں حصہ نہیں لےگی بلکہ علاقے میں سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنائے گی۔
پاکستانی حکام کے مطابق مقامی قبائل اور غیر ملکیوں کے درمیان گزشتہ تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں تقریباً، ڈھائی سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثر ازبک تھے اور القاعدہ سے روابط رکھتے تھے۔ ابھی تک آزاد ذرائع سے مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں القاعدہ کے حامیوں کا ہلاک ہونا دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اس کی فتح ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی فوج لڑائی میں حصہ نہیں لے رہی۔
جمعرات کو ہونے والے ایک جرگے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ان کی مدد کے لئے فوج بھیجے لیکن فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی باقائدہ درخواست انھیں موصول نہیں ہوئی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ شین ورسک اور ژہ غنڈی چھوڑنے کے بعد غیر ملکی اب وانا کے مغرب میں واقع علاقے نندرونہ اور آنارگاسی میں مورچہ زن ہوگئے ہیں۔
وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں جنگجو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آباد ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد ان کی بھی ہے جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہاں آ کر آباد ہوئے اور ام کا تعلق القائدہ سے بتایا جاتا ہے ـ تاہم لڑائی میں شامل دونوں فریقین کا طالبان سے گہرا تعلق رہا ہے۔