Saturday, 07 April, 2007, 09:18 GMT 14:18 PST
پاکستان کے صوبہ سرحد کے علاقے پارہ چنار میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہی ہے جبکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں آٹھ افراد کے ہلاک اور چالیس سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سے 250 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں جمعے کو سنی اور شیعہ مسالک کے ماننے والوں کے درمیان ایک مذہبی جلوس کے مسئلے پر فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ فوج کی مدد بھی طلب کر لی تھی۔ سنیچر کو اعلان کیا گیا کہ کوئی بھی شخص کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔
قبائلی علاقے کے ایڈمنسٹریٹر صاحبزادہ محمد انیس نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فرقوں کے مسلح افراد ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ کا استعمال کر رہے ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں انیس سو اسی کی دہائی میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے آبادی کا تقریباً پندرہ فیصد حصہ ہیں۔
صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں بھی اگرچہ اکثریت سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے لیکن کرم ایجنسی اور اورکزئی میں شیعہ افراد بھی خاصی تعداد میں آباد ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق پارہ چنار میں فرقہ وارانہ فسادات کو رکوانے کے لیے قبائلی عمائدین کا جرگہ بلانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
پارہ چنار میں انیس سو چھیاسی کے بعد سے فرقہ ورانہ تشدد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پاکستان کی افغان پالیسی قرار دیتے ہیں۔ اس شہر کے حالات اب اتنے کشیدہ رہنے لگے ہیں کہ اب وہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی قبائلی جنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔