Thursday, 05 April, 2007, 17:08 GMT 22:08 PST
احمدرضا شیخ
کراچی
بلوچ قوم پرست جماعت جمہوری وطن پارٹی کے ایک اور رہنما پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ان کی جماعت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے اپنی تحویل میں لیا ہے۔
قلندرانی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رفیق کھوسو کو خفیہ اداروں نے حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’رفیق جب رات کو کراچی کے لیے روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے ان سے رابطہ کرکے بتایا تھا کہ وہ کراچی آرہے ہیں لیکن صبح وہ لاپتہ ہوگئے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’انہیں یہ معلوم نہیں کہ رفیق کو کس جگہ سے اٹھایا گیا ہے لیکن ان کا خدشہ ہے کہ انہیں کراچی سے ہی اٹھایا گیا ہے‘۔
قلندرانی نے بتایا کہ وہ رفیق کے موبائل فون پر بار بار رابطہ کرتے رہے لیکن کوئی جواب نہیں آرہا تھا بعد میں ایک انجان شخص نے ان کا موبائل اٹنڈ کیا جو اردو بول رہا تھا۔ اس شخص نے انہیں کہا کہ رفیق کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ لیاقت نیشنل اسپتال میں ہیں اور وہ انہیں اسکے حوالے کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ اپنا پتہ بتادیں۔
قلندرانی نے کہا کہ ’ہم نے اس سے کہا کہ ہم وہاں آنا چاہتے ہیں وہ اپنا نام بتادے لیکن اس نے یہی اصرار کیا کہ ہم اسے بتادیں کہ ہم کہاں ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں جب انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے معلومات کرائی تو رفیق کھوسو نام کا کوئی مریض لیاقت اسپتال نہیں لایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگٹی گزشتہ سال بلوچستان میں فوجی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد پارٹی کی کمان ان کے پوتے براہمداغ نے سنبھال لی تھی جو اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے مطابق جماعت کے دو دیگر رہنما سلیم بلوچ اور شیر محمد بھی لاپتہ ہیں۔