http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 05 April, 2007, 15:07 GMT 20:07 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

خواتین کے اغواء کے خلاف مظاہرہ

پاکستان کے شہر اسلام آباد میں شہری حقوق کی بعض تنظیموں نے جمعرات کو دینی مدرسے کی طالبات کی جانب سے تین خواتین کو یرغمال بنانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

این جی اوز کی خواتین اور مرد سہ پہر کو آبپارہ چوک پر اکٹھے ہوئے اور جلوس کی شکل میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفتر کے تک گئے اور واپس آبپارہ چوک آئے اوراحتجاج کیا۔

ماں بیٹی اور بہو یرغمال
’سرکاری ملا ہائےہائے‘

شہری حقوق کی تنظیموں کے احتجاج میں حکمران مسلم لیگ کے اراکین اسمبلی اور حزب مخالف کی پیپلز پارٹی کی خواتین رہنما بھی اظہار یکجہتی کے لیے شریک ہوئیں۔

مظاہرین نے جامعہ حفصہ کو بند کرنے اور ’جعلی ملا ہائے ہائے، سرکاری ملا ہائے ہائے‘ کے نعرے لگائے۔ شہری حقوق کی تنظیموں کے مظاہرے میں بینائی سے محروم دو خصوصی افراد نے بھی شرکت کی۔

مقررین نے مدرسے کی طالبات کی جانب سے بدکاری کا الزام لگا کر تین خواتین کو تین روز تک زیرِ حراست رکھنے کو غنڈہ گردی قرار دیا اور حکومت کی طرف سے خاموشی اختیار کیے جانے پر سخت تنقید کی۔

ایک موقع پر شہری حقوق کی تنظیموں کے مظاہرے میں مسلم لیگ (ق) کی اراکین اسمبلی مہناز رفیع اور گُلِ فرخندہ کی شرکت پر پیپلز پارٹی کی خواتین نے اعتراض کیا کہ یہ خود حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت نے ابھی تک متعلقہ مدرسے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس دوران وہ ناراض ہوکر چلی گئیں۔
اسلام آباد احتجاج
طالبات کی جانب سے بدکاری کا الزام لگا کر تین خواتین کو تین روز تک زیرِ حراست رکھنے کو غنڈہ گردی قرار دیا

لیکن کچھ دیر بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف اور فرزانہ راجہ کی سربراہی میں ایک جلوس آیا۔ اس دوران حکمران مسلم لیگ کی خواتین نے بھی اپنی جماعت کے پرچم لہرانا شروع کردیے اور ایک موقع پر آبپارہ چوک پر ایک طرف پیپلز پارٹی اور دوسری طرف مسلم لیگ (ق) والے اپنے پرچم لہراتے رہے۔

راجہ پرویز اشرف اور دیگر نے کہا کہ کسی کو جبری طور پر اپنا موقف مسلط کرنے کا حق نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے مدرسہ کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہ کرنا انتہا پسندی کو فروغ دینے اور ملا ملٹری الائنس کا ثبوت ہے۔

آخر میں ایک این جو کی چند خواتین نے بینر اٹھاکر جب جامعہ حفصہ کی طرف جانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ مظاہرین بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔