http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 04 April, 2007, 11:01 GMT 16:01 PST

عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

تیرہ اپریل کو وکلاء ہڑتال کا اعلان

پاکستان کے وکلاء کی نمائندہ تنظیموں نے تیرہ اپریل کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی پیشی کے موقع پر ملک بھر میں وکلاء کی ہڑتال اور احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ، پاکستان بار کونسل کے رکن کاظم خان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر انور حمید نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وکلاء کی تحریک چیف جسٹس کے خلاف بدنیتی کی بنا پر دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کے خلاف ہے اور یہ ایک پرُ امن اور آئینی تحریک ہے۔

وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے الزام لگایا کہ تین اپریل کو سپریم کورٹ کے سامنے ان کے پر امن احتجاجی مظاہرہ کو پنجاب حکومت نے بدامنی کا شکار کرنے کی کوشش کی۔

  تین اپریل کو سپریم کورٹ کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کو پنجاب حکومت نے بدامنی کا شکار کرنے کی کوشش کی
 
وکلاء تنظیموں کا الزام

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے حکومت کے ملازم لاء افسروں کو صوبہ کے دور دراز مقامات سے اسلام آباد پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ مہیا کی اور ان لوگوں نے مظاہرین کو تشدد پر اکسانے کے لیے اشتعال انگیزی کی۔

وکلاء تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بارہ اپریل کو ملک بھر میں تمام وکلاء تنظیموں کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے بدھ کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انیس اپریل کو احتجاجی مارچ اور ہر جمعرات کو وکلاء کی مکمل ہڑتال کا اعلان واپس لے لیا گیا ہے اور احتجاجی مارچ کی نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

تاہم اس موقع پر موجود خواتین محاذ عمل کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ انیس اپریل کو ملک میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن اور اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی طالبات کے رویہ کے خلاف لاہور میں احتجاج کیا جائے گا۔

لاہور کی وکلاء تنظیموں نے خواتین محاذ عمل کے اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔